ڈیڈلائن ختم، حکومت حرکت میں آگئی، افغان شہریوں کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن، گرفتاریاں شروع

ڈیڈلائن ختم، حکومت حرکت میں آگئی، افغان شہریوں کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن، گرفتاریاں شروع

حکومتی مہلت ختم ہونے کے بعد افغان شہریوں کی وطن واپسی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے، جبکہ زیرحراست افراد کو قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہولڈنگ کیمپوں سے افغانستان واپس بھجوایا جائیگا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے مقررہ مہلت ختم ہونے کے بعد پاکستان میں غیر قانونی اور عارضی قیام پذیر افغان شہریوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق افغان سٹیزن کارڈ (ACC) رکھنے والے افراد کی گرفتاریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ مختلف علاقوں سے 50 سے زائد افغان شہریوں کو ہولڈنگ کیمپ منتقل کیا جا چکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ زیرحراست افغان شہریوں کو قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہولڈنگ کیمپوں سے افغانستان واپس بھجوایا جائے گا۔ حکام کے مطابق صرف انفرادی افراد ہی نہیں بلکہ افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے خاندانوں کو بھی ضابطے کے مطابق تحویل میں لے کر ہولڈنگ کیمپ منتقل کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے ملک میں مقیم افغان مہاجرین اور غیر قانونی طور پر رہائش پذیر غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے لیے مرحلہ وار منصوبہ ترتیب دیا تھا۔ اس سلسلے میں پی او آر (POR) کارڈ ہولڈرز اور افغان سٹیزن کارڈ (ACC) رکھنے والوں کو 30 جون تک رضاکارانہ واپسی کی مہلت دی گئی تھی، جس کے بعد متعلقہ اداروں نے کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔

محکمہ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 5 لاکھ 62 ہزار 659 افغان مہاجرین پاکستان سے واپس افغانستان جا چکے ہیں، جن میں 40 ہزار 221 افغان سٹیزن کارڈ (ACC) ہولڈرز بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق افغان شہریوں کی وطن واپسی کا عمل بدستور جاری ہے اور سرحدی گزرگاہوں پر ضروری انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ واپسی کے عمل کو منظم اور آسان بنایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسی کے مطابق غیر قانونی اور عارضی قیام پذیر غیر ملکیوں سے متعلق کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔

Scroll to Top