روس کا کیف پر ایک اور بڑا میزائل حملہ، 24 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی

کیف: روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر ایک بار پھر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن کے نتیجے میں مزید 24 افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔

حملہ نیٹو اجلاس سے ایک روز قبل کیا گیا، جسے یوکرینی حکام نے حالیہ دنوں کے مہلک ترین حملوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

یوکرینی حکام کے مطابق روس نے مسلسل دوسرے ہفتے کیف کی رہائشی عمارتوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ صبح سویرے ہونے والے حملے میں پوڈلسکی ضلع کی ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت بری طرح متاثر ہوئی، جہاں میزائل گرنے سے عمارت کی کئی منزلیں تباہ ہو گئیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق بیلسٹک میزائل الرٹ کے دوران شہر میں 10 سے زائد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ آسمان پر دھماکوں کی روشنی بھی دیکھی گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں کیف میں 16 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ مضافاتی علاقے وِشنِیوے میں مزید 8 افراد ہلاک ہوئے۔ زخمیوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے حملے کو “بہیمانہ کارروائی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس کا مقصد یوکرینی عوام کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یوکرین نے متعدد ڈرونز اور کروز میزائل تباہ کیے، تاہم بیلسٹک میزائلوں کے خلاف مؤثر دفاعی نظام اب بھی ناکافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مؤقف کی امریکا نے حمایت کر دی

صدر زیلنسکی نے نیٹو ممالک سے اپیل کی کہ وہ یوکرین کے فضائی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے خصوصاً امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نیٹو اجلاس میں اس حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔

دوسری جانب نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ اتحادی ممالک کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ یوکرین کو اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے۔

واضح رہے کہ ایک ہفتے کے دوران یہ دوسرا بڑا حملہ ہے جس میں روس نے بیلسٹک میزائل استعمال کیے ہیں، جبکہ یوکرین مسلسل اپنے اتحادیوں سے فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

Scroll to Top