پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں کوئی کمی نہ ہونے سے شہریوں اور دکانداروں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے دوران ملز مالکان نے فیول لاگت بڑھنے کا جواز پیش کرتے ہوئے گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا تھا، تاہم اب ایندھن سستا ہونے کے باوجود قیمتیں بدستور برقرار ہیں۔
ذرائع کے مطابق فیول پرائسز میں اضافے سے قبل درجہ اول گھی اور کوکنگ آئل 560 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہا تھا، جو اب بڑھ کر 610 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔ اسی طرح درجہ دوم گھی اور کوکنگ آئل کی قیمت بھی 550 روپے فی کلو پر برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھیں : نوجوانوں کو ماہانہ 60 ہزار روپے دینے کا منصوبہ، مکمل تفصیلات جانیں
صدر کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن ثقلین بٹ نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں اضافے کو بنیاد بنا کر گھی اور آئل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، لیکن اب پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کے باوجود اس کا فائدہ صارفین کو منتقل نہیں کیا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ گھی اور کوکنگ آئل روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیاء ہیں، جن کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ براہِ راست عام آدمی کے گھریلو بجٹ کو متاثر کر رہا ہے۔
ثقلین بٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ گھی اور آئل ملز مالکان کی اجارہ داری ختم کرتے ہوئے قیمتوں میں فوری کمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔





