خیبرپختونخوا اسمبلی کے منظورہ بل پر طلال چوہدری کی تنقید، وی آئی پی کلچر اور مراعات پر سوالات اٹھا دیے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا اسمبلی سے منظور کیے گئے بل پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’’مضحکہ خیز‘‘قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وی آئی پی کلچر کے خاتمے کے دعوے کرنے والوں نے اپنے لیے مراعات کے انبار لگا لیے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں منظور ہونے والے بل کے بعض نکات عوامی مفاد کے بجائے حکمران طبقے کو اضافی سہولیات فراہم کرنے کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو سادگی اور کفایت شعاری کا درس دینے والے خود اپنے لیے نئی مراعات کا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وی آئی پی کلچر کے خلاف بلند بانگ دعوے کرنے والوں کے اقدامات ان کے اپنے بیانات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کے بقول عوام معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ حکمران طبقہ اپنے لیے مزید مراعات کا بندوبست کر رہا ہے۔
طلال چوہدری نے بل میں بلیو پاسپورٹ سے متعلق شق پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بلیو پاسپورٹ ایک سرکاری سفری دستاویز ہے، جو مقررہ قوانین اور ضوابط کے تحت جاری کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلیو پاسپورٹ کسی کو خوش کرنے یا سیاسی بنیادوں پر نہیں ملیں گے بلکہ ان کے اجرا کا طریقہ کار قانون کے مطابق طے ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے قوانین عوام میں غلط پیغام دیتے ہیں اور ان پر کھلے دل سے بحث ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق حکومتوں کی ترجیح عوامی فلاح، گڈ گورننس اور شفافیت ہونی چاہیے، نہ کہ منتخب نمائندوں کے لیے نئی مراعات کا اضافہ۔
وزیر مملکت نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت بل کے متنازع نکات پر نظرثانی کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو عوامی سطح پر تنقید اور سیاسی تنازع کا باعث بنیں۔
واضح رہے کہ طلال چوہدری کے یہ ریمارکس ان کے سیاسی مؤقف پر مبنی ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت یا متعلقہ حکام کی جانب سے بل کے حوالے سے پیش کیے جانے والے مؤقف کو بھی خبر میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ تمام فریقوں کا مؤقف قارئین کے سامنے آ سکے۔





