اسلام آباد: پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خطے میں کسی نئے تنازع کا آغاز کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔
دفتر خارجہ نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو امن و استحکام کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مسلسل رابطے، مذاکرات اور سفارت کاری ہی مؤثر اور قابلِ عمل راستہ ہیں۔ ترجمان نے تمام فریقین سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی بھی اپیل کی۔
بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت باہمی احترام، افہام و تفہیم اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار آئندہ بھی جاری رکھے گا اور قیامِ امن کی ہر ممکن کوشش میں تعاون فراہم کرے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت اعتماد کی بنیاد پر نہیں بلکہ “وعدے کے بدلے وعدہ” کے واضح طریقہ کار کے تحت طے پائی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : مستونگ: کرکٹ میچ کے دوران فائرنگ، دو نوجوان کھلاڑی جاں بحق
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں چیلنجز پیدا کر رہا ہے، تاہم ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ “میں ایک چھوٹی سی وارننگ دوں گا، ہم آج رات ایران پر سخت حملہ کرنے والے ہیں۔”
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
ان کے مطابق وہ ایرانی قیادت سے خوش نہیں ہیں اور موجودہ صورتحال کو جنگ نہیں بلکہ “ایران کی ڈی نیوکلیئرائزیشن” قرار دیا۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کسی معاہدے کے بغیر بھی ایران کی جوہری صلاحیت ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 47 برسوں میں کسی امریکی صدر نے ایران کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی، جبکہ سابق صدر باراک اوباما پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے ایران کو اربوں ڈالر فراہم کیے۔





