افغانستان میں 25 سے زائد دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں، محسن نقوی

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ افغانستان میں 25 سے زائد دہشتگرد تنظیمیں سرگرم عمل ہیں، جن کے خلاف مؤثر کارروائی اور انتہا پسند گروہوں کا خاتمہ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں روسی وزیر داخلہ سے ملاقات کے دوران محسن نقوی نے خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال، دوطرفہ تعاون کے فروغ اور افغانستان میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات کے موقع پر وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے دہشتگرد تنظیموں کے خلاف مربوط اقدامات ناگزیر ہیں، کیونکہ افغانستان میں 25 سے زائد دہشتگرد گروہ سرگرم ہیں۔

بعد ازاں محسن نقوی نے اپنے چینی ہم منصب سے بھی ملاقات کی، جس میں بارڈر مینجمنٹ، غیرقانونی امیگریشن کی روک تھام اور انسدادِ منشیات کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاقِ رائے اور باہمی معاونت کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی پر پاکستان کا اہم بیان، تمام فریقین سے تحمل کی اپیل

اس موقع پر وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشتگردوں کی مالی معاونت ہر سطح پر روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ سکیورٹی تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے، جبکہ پاکستان میں مقیم چینی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اسپیشل پروٹیکشن پولیس فورس بھی قائم کی جا چکی ہے۔

Scroll to Top