امریکا کی جانب سے ایران پر تازہ حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 79 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت بھی ایک فیصد اضافے کے بعد 74.37 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتی رہی۔ اماراتی مربن خام تیل کی قیمت میں 6.67 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ 74 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
امریکی فوج کی جانب سے ایران پر مزید کارروائیوں کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں مزید تیزی دیکھی گئی۔ اس سے قبل امریکی صدر کی جانب سے ایران پر حملوں کی دھمکی کے بعد عالمی تیل مارکیٹ کے دونوں بڑے بینچ مارکس دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تازہ حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو محفوظ بنانا ہے، تاہم خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے مالکان سیکیورٹی صورتحال کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ بعض انشورنس کمپنیوں نے جنگی خطرات کے پیش نظر شپنگ کمپنیوں کو احتیاطی اقدامات کا مشورہ دیا ہے۔
دوسری جانب امریکا کا کہنا ہے کہ تازہ حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں پر حملوں کے جواب میں کیے گئے، جبکہ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔





