افضل خاموش کی گرفتاری کے خلاف مؤثر آواز نہ اٹھانے پر عرفان سلیم نے پارٹی قیادت کو آڑے ہاتھوں لے لیا

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عرفان سلیم نے کہا ہے کہ جب افضل خاموش کو پشاور ایئرپورٹ سے گرفتار کرکے ایف آئی اے اسلام آباد منتقل کیا گیا تو انہوں نے اپنی قیادت سے درخواست کی تھی کہ اس گرفتاری کے خلاف آواز اٹھائی جائے، تاہم افسوس کہ کوئی مؤثر ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

اپنے بیان میں عرفان سلیم کا کہنا تھا کہ افضل خاموش وہی شخصیت ہیں جو ماسکو کی فلائٹ ہونے کے باوجود اسمبلی میں منعقدہ جرگے میں شریک ہوئے، اپنا مؤقف پیش کیا اور ان سے یہ شکوہ بھی کیا کہ گفتگو کا موقع بہت دیر سے ملنے کے باعث ان کی پرواز چھوٹنے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ رہائی کے بعد بھی افضل خاموش نے اپنی ذات کے بجائے اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، ایم این اے عبد اللطیف چترالی اور دیگر قید کارکنان کے حالاتِ زار کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کا سینیٹ انتخابات کے لیے امیدوار کا اعلان، عرفان سلیم کو ٹکٹ جاری

عرفان سلیم نے کہا کہ بدقسمتی سے مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود سیاسی رواداری، باہمی یکجہتی اور ساتھیوں کے لیے بروقت آواز اٹھانے کی روایت کو مضبوط نہیں کیا جا سکا، اس رویے میں تبدیلی لانا ہوگی۔

Scroll to Top