واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے جو قانونی طور پر تمام تجارتی اور بحری جہازوں کے لیے کھلی ہے، جبکہ ایران کا اس پر کوئی اختیار یا کنٹرول نہیں۔
سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
بیان کے مطابق ایرانی جارحیت، دھمکیوں، ہراسانی اور یکطرفہ اعلانات کے باوجود عالمی بحری راستے کو کھلا رکھا جائے گا اور جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری رہے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایران کے خلاف حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ سینٹکام کے مطابق یہ کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے قبرص کے پرچم بردار ایک کنٹینر بردار جہاز پر حملے کے ردعمل میں کی جا رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایرانی حملے کے نتیجے میں جہاز کے عملے کا ایک رکن لاپتا ہو گیا، جبکہ جہاز میں آگ لگنے سے انجن روم کو شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث وہ اپنا سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں : یورپ جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں ریکارڈ کمی، بڑی وجہ سامنے آگئی
سینٹکام کے مطابق امریکا اس سے قبل بھی تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد ایران کو اپنا رویہ تبدیل کرنے اور مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی شرائط پر عمل درآمد کا موقع دے چکا تھا، تاہم ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف جاری یہ فوجی کارروائیاں امریکی صدر کی ہدایت پر کی جا رہی ہیں۔





