یورپ جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں ریکارڈ کمی، بڑی وجہ سامنے آگئی

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے اختیار کی گئی سخت پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق رواں سال کے پہلے دو ماہ کے دوران غیر قانونی ذرائع سے یورپ پہنچنے والے پاکستانی شہریوں کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 64 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ جنوری اور فروری 2025 کے دوران 440 پاکستانی غیر قانونی راستوں سے یورپ پہنچے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد 1224 تھی۔ یورپی بارڈر اینڈ کوسٹ گارڈ ایجنسی نے بھی ان اعداد و شمار کی تصدیق کرتے ہوئے اس نمایاں کمی کی نشاندہی کی ہے۔

حکام کے مطابق ایئرپورٹس پر سخت اسکریننگ، مشکوک مسافروں کی آف لوڈنگ، انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر نگرانی اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن نے غیر قانونی ہجرت کے رجحان کو نمایاں حد تک کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی مالیاتی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے منظم مہم جاری ہے، خواجہ آصف

ایف آئی اے کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال خطرے کی بنیاد پر تقریباً 40 ہزار مسافروں کو بیرونِ ملک سفر سے روکا گیا۔ اس کے علاوہ دسمبر 2024 سے اب تک انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف 2400 سے زائد مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، جبکہ 3000 سے زیادہ مبینہ ایجنٹس کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یونان اور بحیرہ روم میں ڈنکی روٹس کے دوران پیش آنے والے کشتی حادثات اور دیگر ہلاکت خیز واقعات، جن میں گزشتہ تین برسوں کے دوران 300 سے زائد پاکستانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، کے بعد حکومت نے غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک کے تعاون سے انسانی اسمگلنگ کے خاتمے، غیر قانونی ہجرت کی مؤثر روک تھام اور بیرونِ ملک قانونی روزگار کے خواہشمند پاکستانیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

Scroll to Top