اسلام آباد: وفاقی حکومت نے گیس سیکٹر کو درپیش مالی مشکلات اور گردشی قرضوں کے بحران کے پیش نظر سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کو بڑا ریلیف فراہم کر دیا ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ایس این جی پی ایل کے 50 ارب روپے کے قرض پر وفاقی حکومت کی خودمختار گارنٹی کی مدت میں توسیع کی منظوری دے دی ہے، جو اب 30 جون 2027 تک مؤثر رہے گی۔
ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مقصد گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا، کمپنی پر مالی دباؤ کم کرنا اور گیس سیکٹر میں مالی استحکام پیدا کرنا ہے۔
ایس این جی پی ایل نے مذکورہ قرض کی ری فنانسنگ میزان بینک سے حاصل کی ہے، جہاں بینک نے تین ماہ کائیبور سے 30 بیسس پوائنٹس کم شرح پر فنانسنگ فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ اس اقدام سے کمپنی کو سالانہ تقریباً 15 کروڑ روپے کی بچت متوقع ہے۔
حکام کے مطابق قرض کی اصل رقم اور اس پر منافع کی ادائیگی کی ذمہ داری بدستور ایس این جی پی ایل پر عائد ہوگی، جبکہ وفاقی حکومت کی گارنٹی صرف قرض کے تحفظ اور مالیاتی ادارے کے اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے استعمال ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں آٹے کی قلت نہیں، پنجاب سے ترسیل کی رکاوٹیں مسئلہ ہیں، شفیع جان
دستاویزات کے مطابق دسمبر 2025 تک ایس این جی پی ایل کے واجبات تقریباً 1.095 کھرب روپے تک پہنچ چکے تھے، جبکہ تاخیر سے ادائیگیوں کے باعث سرچارج کی رقم 931 ارب روپے تک جا پہنچی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے گیس سیکٹر کے گردشی قرضوں کے مسئلے کے حل کے لیے سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان بھی تیار کیا ہے، جسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ شیئر کیا جا چکا ہے۔ اس منصوبے پر مالی سال 2026-27 کے دوران عمل درآمد متوقع ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ خودمختار گارنٹی میں توسیع سے ایس این جی پی ایل کی مالی مشکلات میں کمی، گیس کی فراہمی کے نظام میں بہتری اور توانائی کے شعبے میں مالی استحکام لانے میں مدد ملے گی۔





