خیبرپختونخوا میں آٹے کی قلت نہیں، پنجاب سے ترسیل کی رکاوٹیں مسئلہ ہیں، شفیع جان

پشاور: وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبے میں آٹے کے وافر ذخائر موجود ہیں، تاہم پنجاب سے آٹے کی ترسیل پر عائد پابندیوں کے باعث سپلائی کے معاملات متاثر ہو رہے ہیں۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے سرکاری گوداموں میں ایک لاکھ 53 ہزار 933 میٹرک ٹن گندم موجود ہے، جبکہ نجی شعبے میں گندم اور آٹے کا مجموعی ذخیرہ ایک لاکھ 14 ہزار 806 میٹرک ٹن ہے۔ اس طرح صوبے میں مجموعی طور پر تقریباً دو لاکھ 65 ہزار میٹرک ٹن آٹے اور گندم کے ذخائر دستیاب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی سالانہ گندم کی ضرورت 54 لاکھ 36 ہزار 537 میٹرک ٹن ہے، جبکہ مقامی پیداوار تقریباً 16 لاکھ 32 ہزار میٹرک ٹن ہے، جس کے باعث صوبے کو تقریباً 38 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم دیگر صوبوں خصوصاً پنجاب سے حاصل کرنا پڑتی ہے۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی سرحد پر قائم چیک پوسٹوں پر آٹے کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جبکہ آٹے سے بھری گاڑیوں کو مشکلات کا سامنا ہے، جس سے سپلائی کے عمل میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

شفیع جان نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے پاسکو سے ایک لاکھ 75 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی ہے، جس میں سے 25 ہزار میٹرک ٹن گندم وصول کی جا چکی ہے، جبکہ باقی گندم کے لیے معاہدہ اور پیشگی ادائیگی کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی کابینہ نے مقامی کسانوں سے بھی دو لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی ہے، جس کی قیمت 40 کلوگرام کے لیے تین ہزار 500 روپے مقرر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مہنگائی سے تنگ عوام کیلئے بڑی خوشخبری، آٹے کی قیمت میں نمایاں کمی

وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا نے کہا کہ اس وقت صوبے کے کسی بھی حصے میں گندم یا آٹے کی قلت نہیں اور مارکیٹ کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایات پر آٹے کی دستیابی اور قیمتوں کی نگرانی روزانہ کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔

شفیع جان نے الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے بین الصوبائی تجارت سے متعلق آئینی شقوں کے برخلاف گندم اور آٹے کی نقل و حمل پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، جس سے خیبرپختونخوا میں سپلائی متاثر ہونے اور قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے گندم اور آٹے کی بلا تعطل فراہمی کے لیے وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت سے رابطے کیے ہیں اور 15 مراسلے بھی ارسال کیے جا چکے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور پنجاب حکومت فوری طور پر گندم اور آٹے کی ترسیل پر عائد رکاوٹیں ختم کریں تاکہ صوبے میں سپلائی کا عمل بغیر کسی تعطل کے جاری رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت مارکیٹ کی مسلسل نگرانی، اسٹریٹجک ذخائر کے تحفظ اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے خیبرپختونخوا بھر میں گندم اور آٹے کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

Scroll to Top