اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کے اجلاس میں ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز کی خراب کارکردگی، سست رفتار انٹرنیٹ اور کال ڈراپ کے بڑھتے ہوئے مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی سید امین الحق نے کی۔
اجلاس کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے بعد ملک میں دستیاب اسپیکٹرم 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر 754 میگا ہرٹز تک پہنچ گیا ہے، جس سے نیٹ ورک کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور آئندہ چند ماہ کے دوران انٹرنیٹ سروسز میں مرحلہ وار بہتری متوقع ہے۔
چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پہلے مرحلے میں 22 شہروں میں فائیو جی سروس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی مرحلے میں موجودہ موبائل ٹاورز کے ذریعے ہی یہ سروس فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ نئی فائیو جی انفراسٹرکچر کی تنصیب مکمل ہونے کے بعد آئندہ 6 سے 8 ماہ میں انٹرنیٹ کی رفتار مزید بہتر ہو جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ بھی ٹیلی کام سروسز کے معیار کو متاثر کر رہی ہے، کیونکہ بعض علاقوں میں 10 گھنٹے تک بجلی بند رہنے سے موبائل سروسز میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔
چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر ٹیلی کام ٹاورز کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس نے ٹاورز کو ونڈ اور سولر توانائی پر منتقل کرنے کی سفارش کی ہے تاکہ ڈیزل پر انحصار کم ہو اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے۔
یہ بھی پڑھیں : وفاقی وزیرعلی پرویز ملک کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور سپلائی سے متعلق اہم بیان
پی ٹی اے نے اجلاس میں یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والے 92 فیصد اسمارٹ فونز مقامی سطح پر تیار یا اسمبل کیے جاتے ہیں، جبکہ صرف 8 فیصد موبائل فون درآمد کیے جاتے ہیں، جن میں زیادہ تر آئی فون اور گوگل پکسل شامل ہیں۔
ادارے نے واضح کیا کہ درآمدی موبائل فونز پر ٹیکس کی وصولی ایف بی آر کی ذمہ داری ہے، جبکہ پی ٹی اے صرف DIRBS نظام کے تحت موبائل فونز کی رجسٹریشن اور وائٹ لسٹنگ کا عمل انجام دیتی ہے۔
اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹی نے ایپل سمیت دیگر عالمی کمپنیوں کو پاکستان میں موبائل فون مینوفیکچرنگ یا اسمبلنگ پلانٹس قائم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں کمی، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔
دوسری جانب اجلاس میں الیکٹرانک ٹرانزیکشنز (ترمیمی) بل 2026 بھی زیر غور آیا، جس پر پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت مکمل ہونے تک بل کو آئندہ اجلاس تک مؤخر رکھا جائے گا۔





