مولانا فضل الرحمان کا کشمیر دھرنے پر عوامی ایکشن کمیٹی کے نام اہم پیغام جاری

شاہد جان

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کشمیر میں جاری عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنے کے معاملے پر کمیٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ فی الحال کسی بھی اگلے اقدام سے گریز کرے اور مذاکراتی عمل کو موقع دینے کے لیے چند روز مہلت دے۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے پیغام میں کہا کہ ضلع پونچھ کے صدر مقام راولاکوٹ اور گردونواح میں عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں عوام ایک ماہ سے زائد عرصے سے دھرنا دیے ہوئے ہیں اور اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دھرنے کے دوران بعض ناخوشگوار واقعات پیش آئے، جس کے باعث صورتحال میں تلخی پیدا ہوئی، جبکہ معاملہ پارلیمان میں بھی زیر بحث آیا۔

مولانا فضل الرحمان کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی نے انہیں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی، جس پر وہ ان کے اعتماد پر شکر گزار ہیں۔

جے یو آئی کے سربراہ نے بتایا کہ جمعیت علماء اسلام آزاد جموں و کشمیر کے قائد مولانا سعید یوسف خان اور راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے کامران اعظم خان بھی اس معاملے پر ان سے رابطے میں رہے اور حکومت سے بات چیت کے لیے کردار ادا کرتے رہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس سلسلے میں آج ان کی بلاول بھٹو زرداری سے بھی گفتگو ہوئی، جو اس وقت مظفرآباد میں موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ضم شدہ اضلاع اور ملاکنڈ میں ممکنہ ٹیکس نفاذ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اہم فیصلہ

انہوں نے بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے رابطوں اور مسئلے کے حل کے لیے جاری کوششوں سے آگاہ کیا، تاہم ابھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکا۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری چاہتے ہیں کہ خون خرابہ یا کسی قسم کی کشیدگی نہ ہو اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔

مولانا فضل الرحمان نے عوامی ایکشن کمیٹی سے دوبارہ اپیل کی کہ وہ چند روز کے لیے اپنے اگلے اقدامات مؤخر رکھیں تاکہ جاری کوششوں میں پیش رفت کا امکان پیدا ہو سکے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مثبت پیش رفت پاکستان، کشمیر اور کشمیری و پاکستانی عوام کے درمیان باہمی اعتماد کے لیے بہتر ثابت ہوگی۔

Scroll to Top