اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان سے معافی کا مطالبہ درست نہیں، معافی ان لوگوں کو مانگنی چاہیے جنہوں نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مسلح لشکر بنانے کی بات کی۔
صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کامران مرتضیٰ سے سوال کیا گیا کہ کیا مولانا فضل الرحمان کے خلاف بھی ایف آئی آر درج ہو سکتی ہے؟ جس پر انہوں نے کہا کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ مولانا نے ایسی کون سی بات کی جس پر معافی مانگی جائے۔
معافی کس کو مانگنی چاہیے؟
جنہوں نے جمیعت سے کہا ہے کہ آپ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مسلح لشکر بنائیں، انکو معافی مانگنی چاہیے
جنہوں نے جمعیۃ سے ان ڈاریکٹ کہا ہے کہ آپ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مسلح لشکر بنائیں، ان کو معافی مانگنی چاہیے۔۔
سنیٹر کامران مرتضی pic.twitter.com/XCfSXRtPCq
— Kamran Murtaza (@KamranM69045926) July 14, 2026
انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے یہ کہا کہ خیبرپختونخوا میں متوازی لشکر بنائے جائیں اور لوگ خود مقابلہ کریں تو معافی کا مطالبہ ان سے ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں موجود صورتحال اور خراب طرز حکمرانی پر بھی جواب طلبی ہونی چاہیے۔
جے یو آئی رہنما نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان جب پنجاب میں جا کر یہ بات کرتے ہیں کہ ان کے صوبے اور بلوچستان میں حالات خراب ہو چکے ہیں اور کسی کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر مقابلے کے لیے لشکر بنانے کا کہا جا رہا ہے تو اس معاملے پر غور ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : مولانا فضل الرحمان کے اثر و رسوخ کا کمال، پی ٹی سی ایل انجینئر سے ڈی سی کراچی بننے تک بھائی ضیاء الرحمن کا حیرت انگیز سفر،سوشل میڈیا صارفین کی شدید تنقید
کامران مرتضیٰ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ معافی کس کو مانگنی چاہیے، مولانا کو یا ان افراد کو جنہوں نے جے یو آئی سے مسلح لشکر بنانے کی بات کی۔
ایک سوال پر کہ فیاض الحسن چوہان نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا کہا ہے، کامران مرتضیٰ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ فیاض الحسن چوہان کو آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتا ہوں۔
دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کے ایک حالیہ خطاب پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے، جس پر حکومتی رہنماؤں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مولانا فضل الرحمان کا کشمیر دھرنے پر عوامی ایکشن کمیٹی کے نام اہم پیغام جاری
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ فوجی جوانوں کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا ناانصافی ہے اور شہداء و ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی شخص صرف تنخواہ کے لیے اپنی جان قربان نہیں کرتا بلکہ اس کے پیچھے فرض، نظریہ اور وطن سے وابستگی ہوتی ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ شہادت کا مقام کسی بھی دنیاوی معاوضے سے بلند ہے اور جان کی قربانی کو مالی قیمت میں نہیں تولا جا سکتا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وطن پر جان قربان کرنے والے شہداء کے حوالے سے سیاسی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ ان کی قربانیوں کا کوئی مول نہیں۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
اس معاملے پر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز عون چوہدری، استحکام پاکستان پارٹی کے ترجمان فیاض الحسن چوہان اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔





