جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی ضیاء الرحمٰن کی ماورائے قانون سرکاری تعیناتیوں اور سیاسی اثر و رسوخ کے مبینہ استعمال کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیرِ بحث آ گیا ہے۔ اس کیس کو ملکی تاریخ میں سیاسی اقربا پروری کی ایک انوکھی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ضیاء الرحمٰن بنیادی طور پر پی ٹی سی ایل میں گریڈ 17 کے ایک تکنیکی ملازم (انجینئر) تھے، جنہیں کسی بھی وفاقی یا صوبائی مقابلے کا باقاعدہ امتحان (CSS یا PMS) پاس کیے بغیر انتظامی سروس کا حصہ بنایا گیا۔ بعد ازاں انہیں سیاسی اثر و رسوخ کے تحت پہلے اسسٹنٹ کمشنر اور پھر ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔
سیاسی جوڑ توڑ کے تحت ان کا تبادلہ خیبر پختونخوا سے پنجاب کروا کر انہیں ڈپٹی کمشنر خوشاب تعینات کروایا گیا۔ تاہم اثر و رسوخ کا سب سے غیر معمولی مظاہرہ جولائی 2020 میں دیکھنے میں آیا، جب خیبر پختونخوا کے کیڈر سے تعلق رکھنے کے باوجود سندھ حکومت نے ضیاء الرحمٰن کو کراچی کے اہم ترین ضلع وسطی (سینٹرل) کا ڈپٹی کمشنر مقرر کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں : اہم سیاسی رہنماؤں کا مولانا فضل الرحمان سے شہداء سے متعلق بیان واپس لے کر معافی مانگنے کا مطالبہ
قوانین کے مطابق پی ایم ایس خیبر پختونخوا کا کوئی افسر اس طرح دوسرے صوبے کے اتنے اہم انتظامی عہدے پر تعینات نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ متنازع تقرری مولانا فضل الرحمٰن اور پیپلز پارٹی کی قیادت (آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری) کے درمیان کراچی میں ہونے والی ایک اہم ملاقات کے فوراً بعد عمل میں آئی تھی، جس پر اس وقت اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج بھی کیا تھا۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے اور اسلام کا درس دینے والے جے یو آئی کے سربراہ کو پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔
انہوں نے نہ صرف اپنے بھائی کو قواعد و ضوابط کے برعکس اہم عہدوں پر فائز کروایا بلکہ اپنے سمدھی کو گورنر لگوایا جن پر بعد میں کرپشن کے سنگین الزامات لگے اور اپنے بیٹے کو وفاقی وزیر بنوایا۔
یہ بھی پڑھیں : شہداء کی قربانیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، مولانا فضل الرحمٰن کا بیان انتہائی افسوسناک ہے،رکن صوبائی اسمبلی ثوبیہ شاہد
سیاسی حلقوں کے مطابق اب چونکہ مولانا خود حکومت کا حصہ نہیں ہیں اس لیے وہ ہر چیز پر تنقید کر رہے ہیں جبکہ انہیں پہلے اپنے خاندان کو ملنے والی ان ماورائے قانون مراعات کا جواب دینا چاہیے۔





