امریکا ایران کشیدگی: ڈیموکریٹس کے اعتراضات سے دفاعی بل کی منظوری میں رکاوٹ

واشنگٹن: ایران جنگ کے معاملے پر سیاسی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے باعث امریکی سینیٹ میں سالانہ دفاعی پالیسی بل پر بحث روک دی گئی۔

ڈیموکریٹس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگی اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بل کی بعض شقوں پر بھی اعتراض کیا ہے، جن میں امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور انٹیلیجنس تعاون بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں۔

امریکی سینیٹ میں ہونے والی ووٹنگ میں دفاعی پالیسی بل 46 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے مسترد ہو گیا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پیش کیے گئے اس بل کی مالیت ایک ٹریلین ڈالر سے زائد ہے، تاہم 100 رکنی سینیٹ میں منظوری کے لیے 60 ووٹ درکار تھے۔

بل کی ایک شق کے مطابق پینٹاگان کو امریکا اور اسرائیل کے درمیان دفاعی ٹیکنالوجی کے تعاون کے لیے ایک اہلکار مقرر کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے بجلی گھر اور پل نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ کی دھمکی

اس کے علاوہ اسلحے کی تحقیق اور پیداوار میں مشترکہ تعاون اور ایک دوسرے کے فوجی نظام کے ساتھ ٹیکنالوجی کے انضمام کی تجاویز بھی شامل تھیں۔

ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ ایسے وقت میں جب صدر ٹرمپ ایران کے خلاف کارروائیاں بڑھا رہے ہیں، کانگریس کو اس معاملے پر مزید پیش رفت نہیں کرنی چاہیے۔

سینیٹ میں اقلیتی رہنما چک شومر نے کہا کہ بل کی منظوری کا مطلب صدر ٹرمپ کو کانگریس کی نگرانی کے بغیر ایران جنگ جاری رکھنے کی اجازت دینے کے مترادف ہوگا۔

Scroll to Top