معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے بجلی گھر اور پل نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ کی دھمکی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہوا اور مذاکرات پر آمادگی ظاہر نہ کی گئی تو اگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایک حالیہ انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک وہ خود یہ فیصلہ نہ کریں کہ اب بہت ہو چکا ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے منگل کے روز ایران کے ساتھ بات چیت کی ہے اور تہران پر معاہدہ کرنے کے لیے زور دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں توانائی سے متعلق اہداف کو آخری مرحلے میں زیر غور لایا جائے گا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگر ایران کسی معاہدے پر نہ پہنچا اور مذاکرات کے لیے تیار نہ ہوا تو امریکا اگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایران کے تمام بجلی گھر اور تمام پل تباہ کر دیں گے، ایران کو بری طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی فوج کے ایرانی ٹھکانوں پر مزید حملے، ایران کا بھی جوابی حملہ

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس اب بھی کچھ حد تک جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت موجود ہے، تاہم یہ صلاحیت بہت زیادہ نہیں ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر نے آبنائے ہرمز پر 20 فیصد ٹول ٹیکس لینے کے اعلان سے بھی پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ خیال پسند نہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ کسی کو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے پر ٹول ٹیکس ادا کرنا پڑے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ خلیجی ممالک ٹول ٹیکس دینے کے بجائے امریکا میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیں گے۔

Scroll to Top