وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا 9ماہ میں لنڈی کوتل کا دورہ نہ کرنا عوامی حلقوں کے لیے سوالیہ نشان بن گیا

(فرہاد شینواری)

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کو منصب سنبھالے تقریباً 9ماہ گزر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کا ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کا باضابطہ دورہ نہ کرنا مقامی عوام کے لیے ایک اہم سوال بن چکا ہے۔

سابق وزیرِ اعلیٰ محمود خان نے اپنے دورِ حکومت میں لنڈی کوتل کے جرگہ ہال میں صوبائی کابینہ کے ایک تاریخی اجلاس کی صدارت کی تھی اور قبائل کو اپنائیت کا احساس دلایا تھا لیکن تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ موجودہ وزیراعلیٰ لنڈی کوتل کے ساتھ یہ سلوک کیوں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے لنڈی کوتل میں شینواری، آفریدی، ذخہ خیل اور شلمانی اقوام میں مایوسی پھیل رہی ہے۔

سابق وزیرِ اعلیٰ کے دور میں منعقدہ وہ اجلاس سابق فاٹا کی تاریخ کا پہلا موقع تھا جب صوبائی کابینہ کا باضابطہ اجلاس قبائلی اضلاع کی سرزمین پر منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا مقصد نئے ضم شدہ اضلاع کی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، عوامی فلاح و بہبود، انتظامی اصلاحات اور ان علاقوں کو قومی دھارے میں مؤثر انداز سے شامل کرنے کے لیے جامع حکمتِ عملی مرتب کرنا تھا۔

اب مقامی عوام، نوجوان، سماجی حلقے اور قبائلی مشران یہ جاننا چاہتے ہیں کہ موجودہ وزیرِاعلیٰ اب تک علاقے کا باقاعدہ دورہ کیوں نہیں کر سکے جبکہ لنڈی کوتل کے مختلف علاقوں کو بنیادی سہولیات، ترقیاتی منصوبوں اور پینے کے پانی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔

اس وقت پاک افغان بارڈر بند ہے اور مقامی لوگوں کا معاشی قتل عام ہو رہا ہے لیکن اس اہم صورتحال کے باوجود اب تک تورخم جا کر کوئی مؤثر احتجاج ریکارڈ نہیں کرایا گیا۔

عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ وزیراعلیٰ کو چاہیے کہ وہ لنڈی کوتل جرگہ ہال میں ایک کھلی عوامی نشست یا جرگے کا انعقاد کریں جہاں نوجوانوں، قومی مشران، منتخب نمائندوں، سول سوسائٹی اور عام شہریوں کے مسائل براہِ راست سنیں، ان کی تجاویز حاصل کریں اور ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے واضح لائحہ عمل پیش کریں۔

مقامی لوگوں کے مطابق خصوصاً شلمان واٹر سپلائی اسکیم جو کئی برسوں سے ایک اہم عوامی منصوبہ تصور کی جاتی ہے تاحال عملی پیش رفت کی منتظر ہے۔ پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کے باعث متعدد خاندان علاقے سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

عوام یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ وزیرِ اعلیٰ نے نہ صرف اس اہم منصوبے پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی بلکہ اب تک اس منصوبے کی سائٹ کا دورہ کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔

Scroll to Top