رپورٹس کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں سونے کی قدر میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے باعث اسے محفوظ سرمایہ کاری کے اہم ذرائع میں شمار کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، معاشی غیر یقینی اور توانائی کے بحرانوں کے باعث سونے کی اہمیت ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ مرکزی بینکوں سے لے کر عام سرمایہ کاروں تک، سونے کو دولت محفوظ رکھنے کے ایک اہم ذریعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بلومبرگ رپورٹ کے مطابق اگرچہ گزشتہ چند ماہ کے دوران سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، تاہم طویل مدت میں اس کی کارکردگی نے سرمایہ کاروں کی دلچسپی برقرار رکھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2000 کے بعد سونے نے امریکی اسٹاک مارکیٹ کے مقابلے میں نمایاں کارکردگی دکھائی، جبکہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سونے کی قدر میں تقریباً 122 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگوں، مہنگائی اور عالمی معاشی بے یقینی کے حالات میں سونا ایک ایسے اثاثے کے طور پر سامنے آتا ہے جو کرنسیوں اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs) کے فروغ کے بعد سونے میں سرمایہ کاری کا عمل پہلے کے مقابلے میں آسان ہو گیا ہے، جس سے عام سرمایہ کاروں کی رسائی بھی بڑھی ہے۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سونے میں سرمایہ کاری کرتے وقت صرف موجودہ قیمتوں کے بجائے طویل مدتی مالی اہداف، خطرات اور مارکیٹ کی صورتحال کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کے باعث سونا بدستور سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم موضوع بنا ہوا ہے، تاہم مختصر مدت میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔





