پرویز الٰہی فارمولا کہانی، فضل الرحمان نے پی ٹی آئی سے خیبر پختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ مانگ لی؟ تہلکہ خیز انکشافات

پرویز الٰہی فارمولا کہانی، فضل الرحمان نے پی ٹی آئی سے خیبر پختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ مانگ لی؟ تہلکہ خیز انکشافات

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر رہنماؤں کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں موجودہ حکومت کے خلاف مشترکہ سیاسی حکمت عملی، اپوزیشن اتحاد کے قیام اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

باوثوق ذرائع کے مطابق ملاقات کا بنیادی مقصد ماضی کے سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مضبوط اور مؤثر اپوزیشن اتحاد کی تشکیل پر غور کرنا تھا، تاکہ حکومت کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران جے یو آئی (ف) کی جانب سے بعض اہم تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ ان میں خیبر پختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔ ذرائع کے مطابق جے یو آئی (ف) نے تجویز دی کہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی عطاالرحمان کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نامزد کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق جب پی ٹی آئی کے وفد نے اسمبلی میں نشستوں کی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا تو جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں نے ماضی کی سیاسی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں محدود نشستوں کے باوجود چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا، لہٰذا اسی طرز پر خیبر پختونخوا میں بھی اتفاق رائے پیدا کیا جا سکتا ہے۔

ملاقات میں مولانا فضل الرحمان کو مشترکہ اپوزیشن قیادت میں اہم کردار دینے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی۔ ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے بعض رہنماؤں نے رائے دی کہ اپوزیشن کو زیادہ فعال اور منظم بنانے کے لیے ایسی قیادت درکار ہے جو پارلیمانی اور عوامی سطح پر مؤثر کردار ادا کر سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر پی ٹی آئی کے اندر مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ بعض رہنماؤں نے جے یو آئی (ف) کی تجاویز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ یا دیگر اہم سیاسی عہدوں پر سمجھوتہ پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

دوسری جانب بعض رہنماؤں نے اپوزیشن اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے جے یو آئی (ف) کے ساتھ تعاون کے امکانات پر مثبت رویہ اختیار کرنے کی حمایت کی۔ ذرائع کے مطابق ان کا مؤقف ہے کہ حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے وسیع تر اپوزیشن اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر دونوں جماعتیں کسی مشترکہ حکمت عملی پر متفق ہو جاتی ہیں تو ملکی سیاست میں ایک نئی صف بندی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

Scroll to Top