مشرق وسطیٰ کشیدگی کا اثر، عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت دو ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی معاشی صورتحال کے باعث سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں بدھ کے روز سونا دو ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جبکہ سرمایہ کاروں کی نظریں امریکا کے فیڈرل ریزرو کے آئندہ اجلاس اور شرح سود سے متعلق فیصلوں پر مرکوز ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 1.3 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد سونا 4 ہزار 129.43 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔ یہ قیمت 7 جولائی کے بعد سونے کی بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح امریکی گولڈ فیوچر کی قیمت میں بھی 1.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اگست ڈیلیوری کے لیے سونا 4 ہزار 134.50 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔
ماہرین کے مطابق حالیہ دنوں میں قیمتوں میں کمی کے بعد سرمایہ کاروں نے دوبارہ سونے کی خریداری شروع کردی ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کم قیمتوں کو سرمایہ کار خریداری کے لیے ایک بہتر موقع سمجھ رہے ہیں، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت کی امید بھی سونے کی قیمتوں کو سہارا دے رہی ہے۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہی صورتحال سرمایہ کاروں کو محفوظ اثاثے کے طور پر سونے کی جانب راغب کر رہی ہے۔
علاقائی صورتحال کے تناظر میں یمن کے ایران نواز حوثیوں کی دھمکیوں کے بعد سعودی عرب سے ایشیا جانے والے تین آئل ٹینکرز نے بحیرہ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کرلیا، جس سے توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا تو سونے کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھا جا سکتا ہے۔
دوسری قیمتی دھاتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔





