ڈی آئی خان: سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ شہدا پوری قوم کے ہیں اور ان کی قربانیوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے مطالبہ کیا کہ وہ شہدا سے متعلق اپنا بیان واپس لیں۔
ڈی آئی خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جب بھی انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف انتخاب لڑا، انہیں شکست دی۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ عوام نے بھی بے مثال قربانیاں دی ہیں، اس لیے شہدا کی قربانیوں کو ہمیشہ عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔
سابق وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو شہدا کے معاملے کو سیاست کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔ ان کے بقول عوام انہیں مسترد کر چکے ہیں، اس لیے وہ اپنا غصہ شہدا پر نہ نکالیں۔
علی امین گنڈاپور نے الزام عائد کیا کہ مولانا فضل الرحمان پشین سے فارم 47 کے ذریعے منتخب ہو کر آئے ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ شہدا کے لیے مختص 1200 کنال اراضی جی ایچ کیو سے مولانا فضل الرحمان کے نام منتقل کی گئی، تاہم اس حوالے سے انہوں نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا فیصلہ، سرکاری ملازمین کے الاؤنس میں اضافہ
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو فوری طور پر آئینی اور قانونی حقوق فراہم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں پر پابندی ریاستی زیادتی ہے اور انہیں عدالتوں سے انصاف کی امید ہے۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت میں ہے، جبکہ بھارت سے متعلق انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پاکستان مخالف بیانیے پر سیاست کرتے ہیں، تاہم پاکستان نے بھارت کو مؤثر جواب دیا ہے۔
انہوں نے کشمیر کے عوام کی رائے کا احترام کرنے پر زور دیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی سیاست کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔





