پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے مجوزہ تحریک کے معاملے پر اختلافات سامنے آگئے، جہاں بعض اراکین اور پارٹی قیادت کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اور اجلاس کا ماحول کشیدہ ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے 5 اگست سے شروع کی جانے والی مجوزہ تحریک کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا تھا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کے ابتدائی خطاب کے بعد متعدد اراکین نے پارٹی کی موجودہ حکمت عملی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض ناراض اراکین نے تحریک کے طریقہ کار، تنظیمی تیاریوں اور کارکنوں کی شمولیت کے حوالے سے سوالات اٹھائے، جس پر اجلاس کے دوران تلخ کلامی بھی ہوئی۔ صورتحال کشیدہ ہونے کے بعد کچھ اراکین احتجاجاً اجلاس سے باہر چلے گئے۔
اجلاس میں ناراض اراکین کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے سے پہلے ملک بھر میں ورکرز کنونشنز منعقد کیے جائیں تاکہ کارکنوں کو متحرک اور منظم کیا جا سکے۔ اراکین نے یہ تجویز بھی دی کہ اسمبلی اراکین اور پارٹی عہدیداروں سے تحریک میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے عزم کا اظہار کروایا جائے۔
ذرائع کے مطابق بعض اراکین نے تجویز دی کہ تحریک کا آغاز خیبرپختونخوا کے بجائے پنجاب سے کیا جائے، کیونکہ ان کے خیال میں پنجاب سے سیاسی دباؤ زیادہ مؤثر انداز میں بڑھایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اجلاس میں سامنے آنے والے تحفظات پر اراکین کو یقین دہانی کرائی کہ تمام معاملات کو مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے گا اور پارٹی کے اندر موجود اختلافات دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی فضل الٰہی نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رائے ہے کہ 5 اگست کے جلسے کو چند روز مؤخر کرکے پہلے ورکرز کنونشنز منعقد کیے جائیں تاکہ کارکنوں اور پارٹی تنظیموں کو مکمل طور پر تیار کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح ماضی میں سینیٹ انتخابات کے دوران پارٹی نمائندوں سے عزم لیا گیا تھا، اسی طرح رہائی تحریک کے لیے بھی اراکین اور عہدیداروں کو عملی کردار ادا کرنے کا پابند کیا جانا چاہیے۔
فضل الٰہی کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ تحریک کا مرکز پنجاب ہو، کیونکہ وہاں سے حکومت پر زیادہ سیاسی دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اجلاس میں بعض تجاویز کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی، تاہم تمام اراکین کا مقصد عمران خان کی رہائی کے لیے ایک مؤثر تحریک چلانا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کی مجوزہ تحریک کے آغاز سے قبل سامنے آنے والے یہ اختلافات پارٹی کی آئندہ حکمت عملی کے لیے اہم قرار دیے جا رہے ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں پارٹی کی قیادت اور اراکین کے درمیان مزید مشاورت متوقع ہے۔





