وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کا آغاز ہوگیا، آسان قرض حاصل کرنے کا طریقہ کار جانیے

وفاقی حکومت نے ملک میں بڑھتے ہوئے رہائشی مسائل کے حل اور کم و متوسط آمدنی والے خاندانوں کو اپنا گھر فراہم کرنے کے لیے “وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام، گھر ہو تو اپنا” کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت ان شہریوں کو آسان شرائط پر طویل مدتی قرضے فراہم کیے جائیں گے جو پہلے سے کسی رہائشی مکان کے مالک نہیں ہیں۔ حکومت کے مطابق اس اسکیم کا مقصد شہریوں کو چھت کی فراہمی کے ساتھ ساتھ تعمیراتی شعبے کو متحرک کرنا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

پروگرام کے لیے تمام پاکستانی شہری جن کے پاس درست شناختی کارڈ موجود ہو، اور 65 سال تک کی عمر کے حامل بیرونِ ملک مقیم پاکستانی (نائیکوپ یا پی او سی ہولڈرز) درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔ درخواست گزار کے نام پر پہلے سے کوئی رہائشی یونٹ نہیں ہونا چاہیے، تاہم پیشے کی کوئی قید نہیں ۔وکلاء، صحافی، جج، پولیس اہلکار، عسکری ملازمین اور دیگر تمام شعبوں سے وابستہ افراد اس کے لیے اہل ہوں گے۔ تنخواہ دار طبقے کے علاوہ غیر رسمی شعبے سے وابستہ افراد بھی بینک اسٹیٹمنٹ یا یوٹیلیٹی بلز کو آمدنی کے ثبوت کے طور پر پیش کر کے درخواست دے سکتے ہیں۔

اس اسکیم کے تحت 250 مربع گز تک کے گھروں اور 1500 مربع فٹ تک کے فلیٹس کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی جس سے تیار مکان یا فلیٹ کی خریداری، پلاٹ پر تعمیر، یا موجودہ گھر کی مرمت کروائی جا سکے گی۔ حکومت نے مالی سال 2027 کے بجٹ میں اس منصوبے کے لیے 71 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی ہے۔ کمرشل اور اسلامی بینکوں سے ایک کروڑ روپے تک جبکہ مائیکرو فنانس اداروں سے 50 لاکھ روپے تک کا قرض حاصل کیا جا سکے گا۔

قرض کی شرائط کے مطابق پہلے 10 سال کے لیے سبسڈائزڈ شرحِ سود 5 فیصد مقرر کی گئی ہے جبکہ بعد کی مدت میں مارکیٹ ریٹ لاگو ہوگا۔ واپسی کی مدت زیادہ سے زیادہ 20 سال ہوگی۔ درخواست گزار کو کل قیمت کا صرف 10 فیصد ڈاؤن پیمنٹ کے طور پر ادا کرنا ہوگا جبکہ باقی 90 فیصد رقم مالیاتی ادارہ فراہم کرے گا۔ وقت سے پہلے قرض ادا کرنے پر کوئی اضافی جرمانہ یا فیس عائد نہیں کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق وزیرپیٹرولیم کا اہم بیان

درخواستیں آن لائن پورٹل کے علاوہ کمرشل، اسلامی اور مائیکرو فنانس بینکوں اور ایچ بی ایف سی (HBFC) کے ذریعے جمع کرائی جا سکیں گی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ہدایت کی ہے کہ تمام مکمل درخواستوں کا فیصلہ 15 کاروباری دنوںمیں کیا جائے جبکہ اراضی ریکارڈ اور دستاویزات کے حصول میں آسانیاں فراہم کرنے کے لیے ضلعی سطح پر سہولت مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی رہنمائی کے لیے جلد ایک خصوصی ہیلپ لائن بھی فعال کر دی جائے گی۔

Scroll to Top