رستم: عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا حیدر خان ہوتی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے پیش نظر پیٹرولیم لیوی ختم کر کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔
رستم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حیدر ہوتی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مرتب ہو رہے ہیں، تاہم اس کے باوجود حکومت پیٹرولیم لیوی کی مد میں ٹیکس وصول کر رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر حکومت پیٹرولیم لیوی ختم کر دے تو پیٹرول کی قیمت تقریباً 220 روپے فی لیٹر تک آ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت جس قیمت پر پیٹرول خریدتی ہے، اسی قیمت پر عوام کو فراہم کرے اور موجودہ صورتحال میں اضافی ٹیکس وصول کرنے سے گریز کیا جائے۔
سابق وزیراعلیٰ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے قیمتوں کا تعین ماہانہ اور پھر 15 روزہ بنیادوں پر کیا جاتا تھا، جبکہ اب روزانہ قیمتوں میں ردوبدل کی بات کی جا رہی ہے جو تشویشناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا
حیدر ہوتی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسا نہ ہو کہ فجر کے وقت پیٹرول کا ایک ریٹ ہو اور شام کو دوسرا ریٹ مقرر کر دیا جائے۔
سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے اے این پی رہنما نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکن، ارکان اسمبلی اور عمران خان کا خاندان بھی پارٹی کی موجودہ حکمت عملی سے مایوس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کا خاندان مطمئن ہوتا تو ان کی بہنیں احتجاج کے لیے سڑکوں پر نہ آتیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں احتجاج کے بجائے عوامی خدمت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ صوبے میں پہلے ہی پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہے، جبکہ احتجاج وہاں ہونا چاہیے جہاں فیصلے کیے جاتے ہیں۔





