ممتاز سائنسدان اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سابق چیئرمین پرویز بٹ 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سابق چیئرمین، ممتاز سائنس دان اور پاکستان کے اسٹریٹجک و جوہری پروگرام کے بانی ارکان میں شامل پرویز بٹ ہفتہ کو 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

پرویز بٹ نے مئی 1963 میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں شمولیت اختیار کی اور 43 برس سے زائد عرصے تک ادارے میں مختلف سائنسی، انجینئرنگ اور انتظامی ذمہ داریاں نبھائیں۔

وہ 2001 میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین مقرر ہوئے اور 2006 میں ریٹائرمنٹ تک ملک کے جوہری سائنس و ٹیکنالوجی پروگراموں کی قیادت کرتے رہے۔

اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے پاکستان کے مقامی جوہری ایندھن کے سائیکل، نیوکلیئر پاور پروگرام، انجینئرنگ اور اسٹریٹجک صلاحیتوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کی خدمات کے باعث صحت، زراعت، صنعت، تحقیق اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں جوہری ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال کو بھی فروغ ملا۔

ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پرویز بٹ نے قومی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا، وہ 2006 سے 2008 تک وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی میں وفاقی سیکریٹری رہے۔

2013 تک پلاننگ کمیشن میں جوہری توانائی کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اپنی وفات تک وہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی اور اسٹریٹجک پلانز ڈویژن کے مشیر کی حیثیت سے اسٹریٹجک اور جوہری امور پر رہنمائی فراہم کرتے رہے۔

قومی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1998 میں ستارۂ امتیاز، 1999 میں ہلالِ امتیاز اور 2015 میں پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ امتیاز سے نوازا گیا۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور سائنسی حلقوں نے پرویز بٹ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی خدمات کو پاکستان کے جوہری اور سائنسی شعبے کے لیے ناقابلِ فراموش قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے

Scroll to Top