جولائی دہشتگردی کے لحاظ سے سال کا سب سے خونریز مہینہ قرار، 205 افراد جاں بحق

پشاور: ملک میں دہشتگردی کے واقعات کے حوالے سے ماہ جولائی انتہائی بھاری ثابت ہوا، جہاں ایک ماہ کے دوران مختلف حملوں میں 205 افراد جاں بحق جبکہ 218 افراد زخمی ہوئے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی ماہانہ سکیورٹی رپورٹ کے مطابق جولائی سال رواں کا سب سے خونریز مہینہ رہا، جس میں دہشتگردی کے واقعات میں جاں بحق ہونے والوں میں 112 سکیورٹی اہلکار، 74 شہری اور امن کمیٹیوں کے 19 ارکان شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دہشتگرد حملوں میں زخمی ہونے والے 218 افراد میں 101 سکیورٹی اہلکار، 103 شہری اور 14 امن کمیٹیوں کے ارکان شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سکیورٹی فورسز کی شہادتوں کے لحاظ سے جولائی انتہائی سخت مہینہ رہا، جنوری 2023 کے بعد کسی ایک ماہ میں یہ سب سے زیادہ تعداد ہے، جبکہ گزشتہ ایک دہائی میں یہ دوسری بلند ترین ماہانہ تعداد ہے۔

انسداد دہشتگردی کارروائیوں میں بڑی کامیابی

رپورٹ کے مطابق جولائی میں سکیورٹی فورسز کی انسداد دہشتگردی کارروائیوں کے دوران 401 دہشتگرد مارے گئے، جو گزشتہ ایک دہائی میں کسی ایک ماہ کے دوران ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں منی لانڈرنگ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، مشکوک اکاؤنٹس منجمد

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی کے دوران کم از کم 8 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 5 حملے گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے۔ گزشتہ ایک دہائی میں کسی ایک ماہ کے دوران خودکش حملوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد قرار دی گئی ہے۔

اغوا کے واقعات میں بھی اضافہ

سکیورٹی رپورٹ کے مطابق اغواش برائے تاوان اور دیگر اغوا کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ جون میں ایسے 33 واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جو جولائی میں بڑھ کر 66 ہوگئے، یعنی ایک ماہ کے دوران ان واقعات میں 100 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق دہشتگردی کے چیلنجز کے باوجود سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں بھی تیز رہیں اور دہشتگرد عناصر کے خلاف آپریشنز جاری رہے۔

Scroll to Top