بند کالج اور 2 کروڑ ماہانہ تنخواہوں کی ادائیگیاں: تیمرگرہ میڈیکل کالج کی غیر فعالیت پر پی ٹی آئی ایم پی اے اپنی ہی حکومت کے خلاف پھٹ پڑے

خیبر پختونخوا اسمبلی میں تیمرگرہ میڈیکل کالج کی عدم فعالیت اور مسلسل بندش کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکنِ صوبائی اسمبلی عبید الرحمان نے ایوان میں نقطہ اعتراض اٹھاتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر کالج کے درپیش مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو کارروائی کا مکمل بائیکاٹ اور واک آؤٹ کریں گے۔

ایوان سے خطاب کرتے ہوئے ایم پی اے عبید الرحمان کا کہنا تھا کہ تیمرگرہ میڈیکل کالج کا افتتاح 2015ء میں کیا گیا تھامگر آج بھی صورتحال جوں کی توں ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ 2022ء میں کالج کے لیے 186 ملازمین اور سٹاف کی بھرتی کی گئی تھی، جو بغیر کسی طالبعلم کے بند کالج سے ماہانہ تقریباً 2 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں وصول کر رہے ہیں۔ گزشتہ 5 سالوں میں غیر فعال کالج کی مد میں 1 ارب روپے سے زائد رقم تنخواہوں پر خرچ کی جا چکی ہے جو کہ سرکاری وسائل کا ضیاع ہے۔

انہوں نے دیگر میڈیکل کالجز کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ 2015ء میں ہی گجو خان میڈیکل کالج صوابی اور بعد میں نوشہرہ میڈیکل کالج کا افتتاح ہوا جہاں سے اب تک کئی بیچز فارغ التحصیل ہو چکے ہیںلیکن تیمرگرہ میڈیکل کالج اب بھی غیر فعال ہے۔

عبید الرحمان نے محکمۂ صحت اور اعلیٰ حکام کی بے حسی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈائریکشنز کے باوجود PMDC (پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل) کے معیار کے مطابق 500 بیڈز پر مشتمل ہسپتال کی شرط کو پورا کرنے کے لیے لال قلعہ ہسپتال کی اپ گریڈیشن کی نوٹیفکیشن 8 ماہ سے معطل ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اے این پی نے سابق ایم پی اے  کی بنیادی رکنیت ختم کر دی

انہوں نے سپیکر اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر فوری طور پر رولنگ دی جائے اور حتمی وقت مقرر کیا جائے، بصورتِ دیگر وہ اپنے دیگر ساتھی ارکان کے ہمراہ اسمبلی کارروائی کا مکمل بائیکاٹ کرنے پر مجبور ہوں گے۔

Scroll to Top