خیبرپختونخوا میں ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کی تعیناتی بدستور تنازع کا شکار

پشاور: خیبرپختونخوا میں ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کی تعیناتی کا معاملہ تاحال حل نہیں ہوسکا، نئے تعینات ہونے والے پی ایم ایس افسر ڈاکٹر محسن حبیب نے تقریباً 10 روز گزرنے کے باوجود عہدے کا چارج نہیں سنبھالا۔

ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے تقریباً 9 ماہ کی کوششوں کے بعد صدیق انجم کو ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کے عہدے سے ہٹا دیا، تاہم ان کی تبدیلی کا معاملہ بھی مختلف وجوہات کی بنا پر خاصا زیر بحث رہا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدیق انجم کی جگہ ایک پولیس افسر کو ڈائریکٹر اینٹی کرپشن تعینات کیا گیا تھا، تاہم مذکورہ افسر نے عہدہ سنبھالنے سے معذرت کرلی۔

بعد ازاں خیبرپختونخوا حکومت نے پی ایم ایس افسر ڈاکٹر محسن حبیب کو ڈائریکٹر اینٹی کرپشن تعینات کیا، تاہم تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے تقریباً 10 روز بعد بھی انہوں نے تاحال چارج نہیں لیا۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر محسن حبیب اس وقت ایڈمنسٹریٹر اوقاف کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور انہوں نے اپنی نئی تعیناتی واپس لینے کیلئے متعدد بار کوشش کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : صیہونی میڈیا کے جھوٹ کا منہ توڑ جواب، عمران نیازی کی قیدِ تنہائی اور بیماری کا ڈرامہ دستاویزی ثبوتوں سے بے نقاب

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر محسن حبیب کی جانب سے حکومت سے درخواست کی گئی کہ انہیں ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کے بجائے کسی اور عہدے پر تعینات کیا جائے، تاہم حکومت کی جانب سے اب انہیں واضح ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ وہ ہر صورت ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کا چارج سنبھالیں۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر محسن حبیب کے چارج سنبھالنے کے بعد ہی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کی تعیناتی سے متعلق جاری صورتحال ختم ہونے کی توقع ہے۔

Scroll to Top