نیب کی سندھ میں بڑی کارروائی: سرکاری زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور 13 ہزار سے زائد بھرتیوں کے کیسز دوبارہ کھل گئے

نیب کی سندھ میں بڑی کارروائی: سرکاری زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور 13 ہزار سے زائد بھرتیوں کے کیسز دوبارہ کھل گئے

قومی احتساب بیورو (نیب) نے سندھ میں اربوں روپے کے میگا کرپشن اسکینڈلز کی فائلیں دوبارہ کھولتے ہوئے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے، اس مقصد کے لیے نیب کراچی میں ایک خصوصی یونٹ بھی قائم کر دیا گیا ہے۔

سینئر صحافی کامران خان کا کہنا ہے کہ نیب نے ریونیو ڈیپارٹمنٹ سے کراچی کی قیمتی سرکاری زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ، ریگولرائزیشن اور ریکارڈ میں ترمیم سے متعلق 270 کیسز کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

ان میں سے 130 کیسز سندھ لینڈ کمیٹی کے ذریعے ریگولرائز کیے گئے تھے جو مجموعی طور پر 2,665 ایکڑ زمین پر مشتمل ہیں اور ان کا بڑا حصہ کراچی کے تجارتی و پوش علاقوں میں واقع ہے۔

زیادہ تر زمینیں 1993ء سے 1996ء کے دوران اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو محض 10 سے 20 روپے فی مربع گز کے حساب سے الاٹ کی گئیں، جبکہ کئی الاٹیز پر یہ معمولی رقم بھی ادا نہ کرنے کے الزامات ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے نومبر 2012ء سے سندھ میں سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ اور منتقلی پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔

دوسری جانب معاملہ صرف زمینوں تک محدود نہیں بلکہ نیب نے سندھ میں گریڈ 1 سے 15 تک ہونے والی 13,000 سے زائد غیر قانونی بھرتیوں کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہےجن میں رشوت اور اقربا پروری کے سنگین الزامات ہیں۔

یہ تمام ریفرنسز صوبائی اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کو منتقل کیے گئے تھےجن میں بدعنوانی کی کل رقم 40 ارب روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔ نیب حکام کے مطابق اس بار تمام انکوائریوں کو حتمی اور منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

Scroll to Top