خیبر پختونخوا کے شعبہ صحت میں اربوں کی کرپشن: اے این پی کے سنگین الزامات

کاشف عزیز

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے خیبر پختونخوا کے شعبہ صحت کی ناگفتہ بہ صورتحال، ہسپتالوں میں سہولیات کے فقدان اور اربوں روپے کی مبینہ کرپشن پر صوبائی حکومت کے خلاف چارج شیٹ جاری کر دی ہے۔

صوبائی ترجمان ارسلان خان ناظم نے پشاورپریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےانکشاف کیا کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال  میں گزشتہ دو ماہ سے پروسٹیٹ سرجری نہیں ہو رہی اور وہاں صرف 28 آئی سی یو بیڈز موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2013 کے بعد سے صوبے کے بڑے ہسپتالوں میں آئی سی یو بیڈز کا اضافہ نہیں ہوا جبکہ خیبر انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں بھی کوئی ترقیاتی کام سامنے نہیں آیا۔ علاوہ ازیں، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں دو سے تین ہفتوں سے دل کے مریضوں کے لیے سٹنٹس تک دستیاب نہیں ہیں،جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔

اے این پی ترجمان نے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں سنگین مالی بے ضابطگیوں اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ٹینڈر اور مسابقتی تجزیے کے بغیر 4.5 ارب روپے کی غیر قانونی خریداری کی گئی جس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں جبکہ ستمبر 2022 سے پہلے کا ریکارڈ بھی غائب ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک ہی ہسپتال میں 14 ارب روپے کا مالی نقصان ہوا ہے اور ایس ایس پی کی مد میں 3.6 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی قيادت کے علاج کی بات اپنی جگہ لیکن خیبر پختونخوا کے عام عوام کو بھی صحت کی بنیادی سہولیات ملنی چاہئیں۔

یہ بھی پڑھیں : سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑی کمی

اے این پی نے شعبہ صحت میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کی فوری شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ اپوزیشن کے طور پر کرپشن اور بدانتظامی کو بے نقاب کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور ہم عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔

Scroll to Top