وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ کی ان سے ملاقات ہوئی ہے، وہ بتا سکتی ہیں کہ ان کی صحت کیسی ہے، تاہم بانی پی ٹی آئی کی صحت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو بلڈ پریشر کی معمولی شکایت ہے جو عمر کے ساتھ ہوجاتی ہے، ان کی آنکھ کا مسئلہ بھی تھا جس سے وہ صحت یاب ہوچکے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ہسپتال لے جائے گئے تھے، تاہم ایسی کوئی تشویشناک بات نہیں۔ وہ ایک صحت مند شخص کی طرح کھانا کھاتے ہیں۔
خواجہ آصف نے اپنی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ جیل میں تھے تو انہیں ہرنیا کے آپریشن کے لیے جناح ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دوران سائیکاٹرسٹ کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی کہ بانی پی ٹی آئی نے ویڈیو مانگی ہے، جس پر اس کا کیمرا ضبط کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں نے قید میں ایک عمر گزاری ہے اور اس دوران آزمائشیں بھی آتی ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ وہ حلفاً کہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کو کوئی مسئلہ نہیں۔
وزیر دفاع نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی جنیوا میں دو سرجریاں ہوئی تھیں لیکن اس وقت اپوزیشن کا ضمیر نہیں جاگا تھا۔ ان کے بقول جب نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کا مسئلہ سامنے آیا تو اس معاملے کو بھی سیاسی رنگ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا پمز میں طبی معائنہ کرایا گیا، میڈیکل بورڈ نے صحت مند قرار دے دیا، وزیر اطلاعات عطا تارڑ
خواجہ آصف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی سینکڑوں ویڈیوز موجود ہیں جن میں وہ بیماریوں کا مذاق اڑاتے رہے ہیں، جبکہ نواز شریف کا بھی مذاق اڑایا گیا اور امریکا میں جلسوں کے دوران بانی پی ٹی آئی نے ان کا تمسخر اڑایا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری پوری قیادت قید تھی اور ہم اس وقت بھی پارلیمنٹ میں آتے تھے، لیکن کسی اسٹیج پر یہ نہیں کہا کہ مریم نواز قید ہیں تو ہم ایسا کردیں گے۔ اس طرح مسائل حل نہیں ہوتے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اگر اجازت دی جائے تو وہ تمام ویڈیوز ایوان میں چلا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے رویوں کے باوجود تھوڑا برداشت کرنا چاہیے۔
وزیر دفاع نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “آپ نے سیاست کے اسٹینڈرڈز گٹر میں ڈال دیے ہیں۔” بعد ازاں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے حکم دیا ہے، اس لیے وہ بیٹھ جاتے ہیں۔





