واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز حکومتِ پاکستان نے قید سابق وزیر اعظم عمران خان کے خاندان اور پارٹی کے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں ’’تشدد، ذہنی اذیت، تنہائی میں قید اور طبی غفلت‘‘ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے بتایا کہ وزارتِ اطلاعات نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور جیل یا طبی ریکارڈ ان کی حمایت نہیں کرتا،وعمران خان کسی حکومتی حکم پر نہیں بلکہ عدالتی کارروائی کے بعد عدالتوں کی طرف سے دی گئی سزاؤں کے تحت ’’سزا یافتہ قیدی‘‘ کے طور پر قید ہیں۔
حکومت کا یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب عمران خان کے خاندان اور اپوزیشن پارٹی نے الزام عائد کیا کہ حکام نے عمران خان کو عدالت کی طرف سے نامزد کردہ نجی ہسپتال کے بجائے طبی معائنے کے لیے سرکاری ہسپتال لے جا کر سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔
عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جب ان کے بھائی کو رات کے پمز لایا گیا تو وہ وہیں موجود تھیں، ان کے مطابق، عمران خان نے ان سے ملاقات میں شکوہ کیا کہ انہیں تنہائی میں رکھا گیا ہے جو ان کے لیے ذہنی اذیت کے مترادف ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بھی الزام عائد کیا کہ حکومت نے عمران خان کو سرکاری ہسپتال لے جا کر حکم عدولی کی ہے، دوسری طرف، عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ وہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں موجود رہے اور جمعہ کی صبح تک عمران خان کا انتظار کرتے رہے۔
رپورٹ میں ان الزامات کی بھی تردید کی گئی ہے کہ عمران خان کو تنہائی میں رکھا گیا ہے یا انہیں اہل خانہ سے ملنے سے محروم رکھا گیا ہے، 2023 میں گرفتاری کے بعد سے عمران خان کو اہل خانہ، وکلاء، ڈاکٹروں، سیاسی نمائندوں اور دیگر منظور شدہ زائرین کی طرف سے 900 سے زائد ملاقاتیں مل چکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق انہیں اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقاتوں کے علاوہ پاکستان اور بیرونِ ملک رشتہ داروں سے ٹیلی فون، لینڈ لائن اور واٹس ایپ پر رابطے کی اجازت بھی حاصل ہے، عمران خان کی اپنے کسی بیٹے کے ساتھ آخری ریکارڈ شدہ ٹیلی فونک گفتگو 21 مارچ کو ہوئی تھی، جبکہ ان کی بہنیں 18 اور 19 اگست کو بھی ان سے ملاقات کر چکی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کو مطالعہ کا مواد، ٹیلی ویژن، گھر کا کھانا، ورزش کا سامان میسر ہے اور وہ ایک ’’صحت مند خوراک‘‘ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم، یہ واضح کیا گیا کہ جیل سے سیاسی پیغامات بھیجنے کے لیے ان تک رسائی کا استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ وزارت نے طبی غفلت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا پمز، شفا انٹرنیشنل ہسپتال، شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال کے ماہرین اور میڈیکل بورڈز کے ذریعے تقریباً 30 بار معائنہ کیا جا چکا ہے، اس کے علاوہ جیل کے ڈاکٹر نے بھی ان کا باقاعدہ معائنہ کیا ہے۔





