اسلام آباد : وزیراعظم اپنا گھر پروگرام ’گھر ہو تو اپنا‘ کے تحت شہریوں کو اپنے گھر کا خواب پورا کرنے کے لیے نجی بینکوں سے آسان اقساط پر قرض حاصل کرنے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
اس اسکیم کے تحت اہل شہری ایک کروڑ روپے تک کی فنانسنگ حاصل کرسکتے ہیں، جبکہ 40 لاکھ روپے کے قرض پر ماہانہ قسط کے حوالے سے بھی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔
کون اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے کے لیے درخواست گزار کا پاکستانی شہری ہونا اور درست قومی شناختی کارڈ رکھنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ درخواست دینے والا شخص پہلی مرتبہ گھر بنانے کا خواہشمند ہو۔
درخواست گزار کے نام پر پہلے سے کوئی رہائشی جائیداد موجود نہیں ہونی چاہیے۔
قرض کن مقاصد کے لیے استعمال ہوسکتا ہے؟
اس فنانسنگ کے ذریعے نیا گھر یا فلیٹ خریدا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ پہلے سے ملکیتی پلاٹ پر گھر تعمیر کرنے یا پلاٹ خرید کر اس پر گھر بنانے کے لیے بھی قرض حاصل کیا جاسکتا ہے۔
اسکیم کے تحت 10 مرلہ یا 2,720 مربع فٹ تک کے مکانات اہل قرار دیے گئے ہیں، جبکہ فلیٹس اور اپارٹمنٹس کا زیادہ سے زیادہ رقبہ 1,500 مربع فٹ تک ہوسکتا ہے۔
ایک کروڑ روپے تک قرض اور 20 سال کی مدت
پروگرام کے تحت زیادہ سے زیادہ 10 ملین روپے یعنی ایک کروڑ روپے تک قرض حاصل کیا جاسکتا ہے۔ قرض کی زیادہ سے زیادہ مدت 20 سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ ابتدائی 10 سال کے لیے حکومت کی جانب سے مارک اپ سبسڈی فراہم کی جاتی ہے۔
فنانسنگ ٹو ویلیو کا تناسب 90:10 رکھا گیا ہے، یعنی درخواست گزار کو جائیداد کی قیمت کا 10 فیصد اپنی جانب سے بطور ایکویٹی ادا کرنا ہوگا جبکہ باقی 90 فیصد رقم بینک فراہم کرے گا۔
40 لاکھ روپے کے قرض پر ماہانہ قسط کتنی ہوگی؟
40 لاکھ روپے کا قرض اگر 20 سال کی مدت کے لیے لیا جائے تو ماہانہ قسط 26,398 روپے بنتی ہے۔
اسی طرح قرض کی مدت 15 سال مقرر کرنے کی صورت میں ماہانہ قسط 31,632 روپے ہوگی، جبکہ 10 سال کی مدت کے لیے ماہانہ قسط 42,426 روپے ادا کرنا ہوگی۔
یوں قرض کی مدت بڑھانے سے ماہانہ قسط کم ہوجاتی ہے، جبکہ کم مدت منتخب کرنے کی صورت میں ماہانہ ادائیگی کی رقم بڑھ جاتی ہے۔





