چترال: چترال کی قدیم اور منفرد کیلاش تہذیب کا سالانہ مذہبی و ثقافتی تہوار ’’اوچال/اوچاؤ‘‘ وادی رمبور میں شروع ہوگیا، جہاں روایتی رسومات، رقص، موسیقی اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تہوار رات 2 بجے تک جاری رہنے کے بعد وادی بمبوریت میں اختتام پذیر ہوگا۔
موسم گرما کے اختتام پر منعقد ہونے والے اس تہوار میں شرکت اور کیلاش ثقافت کے رنگوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد نے چترال اور کیلاش وادیوں کا رخ کیا ہے۔
اوچال کیلاش قبیلے کا صدیوں پرانا اہم مذہبی و ثقافتی تہوار ہے، جو گندم، جو اور دیگر فصلوں کی کٹائی مکمل ہونے کی خوشی اور قدرت کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر گزاری کے طور پر منایا جاتا ہے۔ تہوار کے دوران کیلاش برادری اپنے مخصوص مذہبی عقائد، روایات اور ثقافتی اقدار کو اجاگر کرتی ہے۔
فصلوں کی کٹائی اور مکھن کی تقسیم
دو روزہ تہوار کے دوران کیلاش برادری کے افراد پہاڑی علاقوں میں موجود کھیتوں سے گندم کی فصل کاٹ کر اسے آبادی تک لاتے ہیں۔ اس موقع پر چرواہوں کو بھی ساتھ لایا جاتا ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں سے مکھن بھی لایا جاتا ہے۔
تہوار کی ایک نمایاں روایت کے تحت یہ مکھن بعد ازاں ہمسایوں، رشتہ داروں، مہمانوں اور ملکی و غیر ملکی سیاحوں میں خوشی اور محبت کے اظہار کے طور پر تقسیم کیا جاتا ہے۔
مقامی صحافی فتح اللہ کے مطابق تہوار کے دوسرے روز وادی رمبور میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں روایتی رقص اور موسیقی کے لیے ڈانسنگ ہال میں جمع ہوتے ہیں، جہاں کیلاش ثقافت کے مخصوص روایتی رقص پیش کیے جاتے ہیں۔ اس دوران مختلف رسومات بھی ادا کی جاتی ہیں اور پہاڑی علاقوں سے لایا گیا مکھن شرکا اور مہمانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
تہوار کی تیاریاں پہلے سے شروع ہوجاتی ہیں
کیلاش برادری میں اوچال تہوار کی تیاریوں کا سلسلہ کئی ہفتے قبل شروع ہوجاتا ہے۔ جولائی کے آغاز میں ’’رنات ڈانس‘‘ کی روایت ادا کی جاتی ہے، جس میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں مل کر روایتی رقص کرتے ہیں۔ یہ رقص عموماً جوار کی فصل کی کٹائی کے بعد کیا جاتا ہے اور کیلاش ثقافت میں اسے خاص اہمیت حاصل ہے۔
اوچال فیسٹیول ہر سال اگست میں کیلاش کی وادی رمبور اور بمبوریت میں منایا جاتا ہے، تاہم اس کا سب سے بڑا اور مرکزی میلہ وادی بمبوریت میں سجتا ہے۔
رواں سال بھی تہوار کے دوران کیلاش برادری کی روایتی زندگی، ثقافت، لباس، موسیقی اور رقص دیکھنے کے لیے سیاحوں کی بڑی تعداد وادیوں میں موجود ہے۔ سیاحوں کی آمد سے مقامی سطح پر سیاحت، ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ اور دیگر کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ثقافتی ورثے کے تحفظ پر زور
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کیلاش کے مذہبی اور ثقافتی تہوار نہ صرف صدیوں پرانی روایات کے تحفظ کا ذریعہ ہیں بلکہ دنیا بھر میں چترال اور کیلاش ثقافت کا مثبت تعارف بھی کراتے ہیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق اوچال تہوار ان کی ثقافتی شناخت، قدرتی نعمتوں پر شکر گزاری اور باہمی محبت و بھائی چارے کے اظہار کا اہم ذریعہ ہے، جبکہ سیاحوں کے لیے یہ دنیا کی منفرد اور قدیم ثقافتوں میں سے ایک کو قریب سے دیکھنے اور اس کے روایتی رنگوں سے لطف اندوز ہونے کا منفرد موقع فراہم کرتا ہے۔
خستہ حال سڑکیں سیاحت کی راہ میں رکاوٹ
کیلاش وادیوں کا رخ کرنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں نے حکومت سے سیاحت کے فروغ اور بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے سڑکوں سمیت بنیادی انفرااسٹرکچر فوری طور پر بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سیاحوں کا کہنا ہے کہ کیلاش کی خوب صورت وادیوں میں قدرتی حسن، منفرد ثقافت اور قدیم روایات دیکھنے کے لیے ہر سال بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں، تاہم خستہ حال سڑکیں سیاحت کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
ان کے مطابق کیلاش وادیوں تک پہنچنے والی سڑکوں کی حالت کئی مقامات پر انتہائی خراب ہے، جس کے باعث چند منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنا پڑتا ہے۔ سڑکوں پر جگہ جگہ گڑھے، ٹوٹ پھوٹ اور تنگ راستوں کے باعث گاڑیوں کی رفتار انتہائی کم ہوجاتی ہے، جبکہ بعض مقامات پر سفر دشوار ہونے کے ساتھ حادثات کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔





