بونیر: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی زیر قیادت بونیر میں پاکستان تحریک انصاف کی اسٹریٹ موومنٹ جاری رہی، جس میں پارٹی رہنماؤں، کارکنوں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل خان آفریدی نے کہا کہ 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا اور مارچ مقررہ تاریخ کو ہی ہوگا۔ انہوں نے کارکنوں کو ابھی سے تیاریاں شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود مارچ کی قیادت کریں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بونیر کے عوام نے فیصلہ دے دیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو رہا کراکے دم لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادی یا شہادت کے علاوہ کوئی تیسرا آپشن نہیں، جس پر کارکنوں نے بھی نعرے لگاتے ہوئے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ لاکھوں افراد کو اسلام آباد لے کر جائیں گے اور کارکن 27 ستمبر کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان شاء اللہ کارکن کامیاب ہوکر واپس آئیں گے۔
وزیراعلیٰ نے بانی پی ٹی آئی کے علاج کے معاملے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود عمران خان کا شفا ہسپتال میں علاج نہیں کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں نے بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے دو دن کا وقت دیا تھا، تاہم عدالتی فیصلوں کو نظرانداز کیا گیا۔
انہوں نے عدلیہ سے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کارکنوں کے حقوق اور بانی پی ٹی آئی کے معاملے پر انصاف ہونا چاہیے۔
بونیر کے لیے ترقیاتی اعلانات نہ ہونے پر مایوسی
اسٹریٹ موومنٹ کے دوران بونیر کے مقامی مسائل بھی زیر بحث آئے۔ کارکنوں کی جانب سے کہا گیا کہ بونیر نے تحریک انصاف کو بھرپور سیاسی حمایت دی اور پارٹی کی جانب سے ضلع کو چیئرمین شپ، دو اہم صوبائی وزارتیں اور ڈیڈک چیئرمین شپ سمیت اہم ذمہ داریاں دی گئیں، تاہم علاقے کے لیے کسی بڑے ترقیاتی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
وزیراعلیٰ کی جانب سے بونیر کے تمباکو کاشتکاروں کو ان کی فصل کی فروخت کے حوالے سے اعلان کیا گیا، تاہم مقامی سطح پر دیگر ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات نہ ہونے پر عوام میں مایوسی کا اظہار بھی کیا گیا۔
انتظامات پر کارکنوں کی شکایات
اسٹریٹ موومنٹ کے انتظامات کے حوالے سے بھی کارکنوں کی جانب سے شکایات سامنے آئیں۔ بعض شرکا کے مطابق ناقص انتظامات کے باعث گرمی میں کئی چھوٹے اور بزرگ کارکنان بے ہوش ہوگئے، جبکہ احتجاج کے دوران متعدد افراد کے موبائل فون چوری ہونے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔
اس موقع پر صوبائی صدر جنید خان، صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان اور صوبائی وزیر ریاض خان سمیت دیگر پارٹی رہنما بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ موجود تھے۔





