پشاور تعلیمی بورڈ کی فیسوں میں ہوشربا اضافہ، ایمل ولی خان کا شدید ردعمل

کاشف عزیز

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے پشاور تعلیمی بورڈ کی جانب سے مختلف فیسوں میں ہوشربا اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے طلبہ پر اضافی مالی بوجھ قرار دیا ہے۔

اپنے بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ پشاور بورڈ کی بدترین کارکردگی کے بعد فیسوں میں بے تحاشا اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کے مطابق بورڈ کو طلبہ کی سہولت اور معیاری امتحانی نظام کے بجائے پیسے بنانے کی مشین بنا دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہی سال میں مختلف فیسوں میں سو فیصد تک اضافہ ناقابلِ جواز اور طلبہ کے ساتھ کھلا ظلم ہے۔ ایڈمیشن، مائیگریشن، ری اپیئرنگ اور ری ٹوٹلنگ سمیت مختلف فیسوں میں اضافے سے طلبہ اور ان کے والدین پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔

سینیٹر ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ بھاری تعلیمی فیسیں خصوصاً غریب خاندانوں کے بچوں کے لیے تعلیم جاری رکھنے میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں جاری نام نہاد تعلیمی ایمرجنسی کی اصل جھلک فیسوں میں ہونے والا یہ ہوشربا اضافہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اگلے 24 گھنٹے اہم، محکمہ موسمیات نے بارشوں سے متعلق بڑا الرٹ جاری کردیا

انہوں نے کہا کہ کبھی کلسٹر نظام اور کبھی فیسوں میں اضافے کے ذریعے طلبہ و طالبات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ پشاور بورڈ کی کارکردگی، امتحانی نتائج اور طلبہ کی شکایات پہلے ہی سوالات کی زد میں ہیں۔ ایسے حالات میں فیسوں میں مزید اضافہ ناقابلِ فہم ہے۔

اے این پی کے مرکزی صدر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں تعلیمی فیسوں میں غیر معمولی اضافہ غریب خاندانوں کے بچوں کو تعلیم سے دور کرنے کے مترادف ہے۔

سینیٹر ایمل ولی خان نے مطالبہ کیا کہ پشاور بورڈ کی جانب سے حالیہ فیسوں میں کیا گیا اضافہ فوری واپس لیا جائے، فیسوں کے تعین کے طریقہ کار اور بورڈ کے مالی معاملات کا شفاف آڈٹ کرایا جائے۔

انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ امتحانی نتائج، فیل کیے جانے اور ری ٹوٹلنگ سے متعلق طلبہ کی شکایات کے ازالے کے لیے ایک آزادانہ اور مؤثر نظام قائم کیا جائے۔

Scroll to Top