پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا، جس میں سرکاری افسران و اہلکاروں کے خلاف جاری احتسابی کارروائیوں اور کیسز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اکتوبر 2025 سے اب تک 827 کیسز سامنے آئے، جن میں سے 629 کیسز کے فیصلے ہوچکے ہیں جبکہ 198 کیسز پر کارروائی جاری ہے۔
بریفنگ کے مطابق فیصلہ شدہ 629 کیسز میں 589 افسران و اہلکاروں کو سزائیں دی گئیں جبکہ 40 کو بری کردیا گیا۔ احتسابی کارروائیوں کے نتیجے میں 128 ملازمین کو سروس سے فارغ، 18 کو ڈسمس، 6 کو جبری ریٹائر اور 10 کو معطل کیا گیا۔
اسی طرح 89 ملازمین کی تنخواہوں سے ریکوری کی گئی، 39 کی ترقی روک دی گئی، 16 کو چارج شیٹ کیا گیا جبکہ 14 ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی۔ مزید برآں 155 ملازمین کو وارننگ، 52 کو سرزنش، 2 کی تنزلی اور ایک ملازم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ غیر مجاز غیر حاضری سب سے بڑا جرم سامنے آیا، جس سے متعلق 447 کیسز رپورٹ ہوئے، جو مجموعی کیسز کا 54 فیصد بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ 120 کیسز ڈیوٹی میں غفلت، 75 کرپشن و مالی بے ضابطگیوں اور 75 نااہلی سے متعلق تھے۔
یہ بھی پڑھیں : شفیع جان نے سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے کا اضافی قلمدان سنبھال لیا
بریفنگ کے مطابق محکمہ جاتی طور پر ضلع دفاتر سے 305، منسلک محکموں و اداروں سے 263 جبکہ مرکزی محکموں سے 259 کیسز سامنے آئے۔
صحت کے شعبے میں فیلڈ وزٹس کے دوران ڈی ایچ کیو ہسپتال صوابی کے 90 اور ڈی ایچ کیو ہسپتال لکی مروت کے 61 افسران و اہلکاروں کے خلاف معطلی کی کارروائی بھی کی گئی۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق احتساب سے کوئی بالاتر نہیں اور سرکاری نظام میں شفافیت اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گڈ گورننس، میرٹ اور شفافیت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا رہا، جبکہ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپٹ عناصر کے لیے خیبرپختونخوا میں کوئی جگہ نہیں۔





