اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے 100 نوجوان زرعی گریجویٹس کو اٹلی بھیجنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان زیتون کی کاشت، جدید پروسیسنگ، مارکیٹنگ اور ویلیو چین کے شعبوں میں تربیت حاصل کریں گے۔
وزیراعظم نے پاکستان نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں زیتون کے کسانوں، محققین اور برآمد کنندگان سے مخاطب ہوکر خوشی محسوس ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں اور ماہرین کی محنت سے زیتون کے شعبے میں ایک شاندار مثال قائم ہوئی ہے اور زیتون کی فصل کے فروغ کے لیے اہم کام کیا گیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ صوبائی حکومتوں نے زیتون کی کاشت کے فروغ میں کسانوں کا ساتھ دیا، جس پر وہ ان کے مشکور ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت ملک میں 60 ہزار ایکڑ رقبے پر زیتون کی کاشت کی جارہی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں زرعی انقلاب لانے کے لیے کسانوں کو بھرپور تعاون فراہم کرنا ہوگا۔ پاکستان ہر سال تقریباً 4 ارب ڈالر کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے، اگر اس درآمدی بل میں صرف 400 ملین ڈالر کی بھی کمی لائی جاسکے تو یہ ملک کے لیے بڑی خدمت ہوگی۔
انہوں نے درآمدی بل کم کرنے کے لیے پام آئل اور سورج مکھی کی کاشت کو بھی فروغ دینے پر زور دیا اور کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر کسانوں کو ضروری سہولیات فراہم کریں گی۔
یہ بھی پڑھیں : امریکا ایران معاہدے کی امید، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 4 فیصد تک گر گئیں
وزیراعظم نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان زراعت، ٹریکٹر مینوفیکچرنگ اور دیگر شعبوں میں تعاون کو قابل ذکر قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیتون کی پیداوار، ویلیو ایڈیشن اور جدید پروسیسنگ کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ 100 نوجوان زرعی گریجویٹس کو اٹلی بھیجا جائے گا، جہاں وہ زیتون کی کاشت اور جدید پروسیسنگ کے ساتھ ساتھ مارکیٹنگ اور ویلیو چین کے شعبوں میں جدید تربیت حاصل کریں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ اولیو آئل صحت کے اعتبار سے انتہائی مفید ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی کی پی ڈی ایم حکومت کے دور میں بھی پام آئل کی پلانٹیشن کے لیے اقدامات کیے گئے تھے اور اب بھی اس حوالے سے ہدایات دی گئی ہیں۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر زرعی شعبے، بالخصوص زیتون کی کاشت کے فروغ اور کسانوں کی سہولت کے لیے اقدامات جاری رکھیں گی۔





