قانونی کان کنی کےلیے بارودی مواد کے لائسنسز کی معطلی: ایمل ولی خان نے سینیٹ میں تحریک التوا جمع کرادی

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے خیبر پختونخوا میں قانونی کان کنی اور بلاسٹنگ کے لیے درکار بارودی مواد کے لائسنسز کی معطلی اور عدم تجدید کے خلاف سینیٹ میں تحریکِ التوا جمع کرا دی ہے۔

تحریک التوا میں ایوان کی معمول کی کارروائی ملتوی کرکے اس اہم اور فوری عوامی مسئلے پر تفصیلی بحث کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

تحریک التوا میں سینیٹر ایمل ولی خان نے مؤقف اختیار کیا کہ لائسنسز کی عدم دستیابی کے باعث خیبر پختونخوا میں معدنیات کا شعبہ مسلسل مشکلات کا شکار ہے جس سے کان کنوں، کان مالکان اور اس شعبے سے وابستہ لاکھوں افراد کے روزگار اور معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امن و امان اور سیکیورٹی کے تقاضے اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم ان کی آڑ میں قانونی اور حقیقی لیز ہولڈرز کو غیر معینہ مدت تک کان کنی سے محروم رکھنا بالکل بھی مناسب نہیں۔ مائن اونرز سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون اور حساس علاقوں میں سیکیورٹی تقاضوں کے مطابق کان کنی و بلاسٹنگ سرگرمیوں کو محدود رکھنے کے لیے تیار ہیں۔

سینیٹر ایمل ولی خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قانونی اور حقیقی لیز ہولڈرز کے سابقہ لائسنسز کو سیکیورٹی کلیئرنس کے تقاضے پورے ہونے کے بعد فوری طور پر بحال کیا جائے۔

انہوں نے تجارتی و انتظامی شفافیت کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ معدنیات اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے مشترکہ ویریفیکیشن میکنزم کے ذریعے لائسنسز کا شفاف اجراء یقینی بنانے اور ایسے لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جن کے نام پر کوئی قانونی یا فعال مائنگ پراجیکٹ موجود نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث بند یا متاثر ہونے والے مائننگ پراجیکٹس کے لیے مناسب مالی ریلیف اور بحالی پیکیج دیا جائے اور بندش کے دوران لیز منسوخی اور غیر ضروری مالی بوجھ سے بھی مالکان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

اے این پی کے صدر نے حکومت سے زور دے کر کہا کہ سیکیورٹی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے خیبر پختونخوا کے معدنیات کے شعبے کو بحال کرنے، قانونی لیز ہولڈرز کو لائسنس جاری کرنے اور ہزاروں کان کنوں سمیت اس شعبے سے وابستہ لاکھوں افراد کے روزگار کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

Scroll to Top