بنوں امن کمیٹی کے بعض ارکان کے خلاف اغوا، تشدد، شہریوں کے گھروں پر چھاپوں، املاک کی ضبطی اور بھتہ خوری سمیت متعدد سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق امن کمیٹی کے اقدامات سے متعلق مختلف واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں مولوی قدرت اللہ، قاری رشید، وقاص اور کاشف سرانی سے متعلق معاملات شامل ہیں۔
پختون انویسٹیگیشن ٹیم کی تحقیقات کے مطابق امن کمیٹی کے صدر حضرت اللہ کے استاد مولوی قدرت اللہ نے جمعے کے خطبے کے دوران امن کمیٹی کے بعض اقدامات پر تنقید کی اور ارکان کو غیر قانونی طریقے اختیار کرنے اور قانون کو ہاتھ میں لینے سے گریز کا مشورہ دیا۔
تحقیقات کے مطابق نماز جمعہ میں تنقید کے بعد امن کمیٹی کے ارکان نے مولوی قدرت اللہ کو اغوا کیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس حوالے سے تصاویر بھی سامنے سوشل میڈیا پر آئی ہیں۔
تحقیقات کے مطابق امن کمیٹی نے قاری رشید کو بھی حراست میں لے لیا جو سابق کمانڈر اسحاق سے وابستہ ایک سرنڈر شدہ عنصر تھا۔ذرائع کے مطابق قاری رشید کے اغوا کے عوض ایک مخالف فریق سے 90 لاکھ روپے وصول کیے ۔
تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق امن کمیٹی کی جانب سے مختلف شہریوں کے گھروں پر چھاپے مارنے، گھروں کی تلاشی اور قیمتی اشیا لے جانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق موبائل فونز اور موٹر سائیکلوں سمیت بعض اشیا تاحال امن کمیٹی کے مبینہ قبضے میں ہیں اور مالکان کو واپس نہیں کی گئیں۔
تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے ایک اور واقعے میں وقاص نامی شخص کو اس کے بیرون ملک مقیم بھائی سے متعلق مالی تنازع پر حراست میں لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق امن کمیٹی نے اس کا کاروبار بند کرایا اور بعد ازاں اس سے رقم بھی وصول کی۔
ذرائع کے مطابق کاشف سرانی، جو اپنی شادی کے سلسلے میں متحدہ عرب امارات سے واپس آئے تھےکو بھی امن کمیٹی کے ارکان نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اور اس دوران ان کی جیب سے رقم بھی نکالی گئی۔ بعد ازاں امن کمیٹی کے صدر نے سرانی قبیلے کے مشران سے رابطہ کرکے کاشف سرانی کے ساتھ کیے گئے سلوک پر معذرت کی۔
مذکورہ واقعات سے متعلق سامنے آنے والے معلومات انتہائی سنگین نوعیت کی ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نام نہاد امن کمیٹی کے سرغنہ جرائم حضرت علی اور ان کے ساتھی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور قانونی کاروائی سے بچنے کےلئے نام نہاد امن کمیٹی کا لبادہ اُڑھے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق امن کمیٹی کے سرغنہ حضرت عمر سرکاری اسلحہ چوری اور بھتہ خوری جیسے واقعات میں ملوث ہے۔
ذرائع کے مطابق حضرت عمر نے سرکاری اسلحہ چوری کیا اور اب اس کا الزام ڈی پی او بنوں پر لگا رہا ہے۔ لیکن اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : لکی مروت: معطل کانسٹیبل کا نام نہاد پولیس امن کمیٹی، امن کے لیے خطرہ بن گیا، سینئر صحافی عبداللہ جان
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ حضرت عمر امن کمیٹی کے باقی ممبران کو تو جوابدہ بناتا ہے لیکن خود کو نہ کسی کے سامنے جوابدہ سمجھتا ہے اور نہ ہی اپنا احتساب کرانے کو تیار ہے۔ ساتھیوں کی جانب سے بھی اختلاف رائے کی صورت میں ان کے خلاف سازشیں کرنے میں ملوث ہے۔





