پمز سانحہ: 10 ارب روپے کے بجٹ کے باوجودہسپتال کی حالت سوالیہ نشان، ریسکیوکہاں تھی؟ شفیع جان، مزمل اسلم

اسلام آباد: پمز اسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان اور مشیر خزانہ مزمل اسلم نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے جاں بحق بچوں کے والدین اور لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

شفیع جان نے کہا کہ معصوم بچوں کی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک اور دلخراش ہے۔ انہوں نے پمز اسپتال میں آگ بجھانے، ہنگامی انخلا اور حفاظتی اقدامات کی بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں : سانحہ پمز؛ وزیراعظم نے وفاقی سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دیا

صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں آگ بجھانے، مریضوں کے ہنگامی انخلا اور دیگر حفاظتی اقدامات کے مؤثر انتظامات ہونا ضروری ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو حکومت اسلام آباد کے محض دو اسپتال نہیں چلا سکتی، اس سے بڑی نااہلی اور ناکامی اور کیا ہوگی؟

شفیع جان نے الزام عائد کیا کہ نااہلی، ناکامی اور بے حسی وفاقی حکومت کا طرۂ امتیاز بن چکی ہے۔ ان کے مطابق پمز کا افسوسناک واقعہ وفاقی حکومت کی مجرمانہ غفلت کو بے نقاب کر گیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سنگین غفلت اور مجرمانہ کوتاہی پر وفاقی حکومت کا احتساب ہونا چاہیے۔

دوسری جانب مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے بھی پمز آتشزدگی کے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر صحت کے بیان کو کئی اہم سوالات کا باعث قرار دیا۔

مزمل اسلم نے کہا کہ وفاقی وزیر صحت کے مطابق سرکاری اسپتالوں میں آگ سے بچاؤ کے وہ مؤثر انتظامات موجود نہیں جو اعلیٰ نجی اسپتالوں میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پمز اسپتال کا سالانہ بجٹ تقریباً 10 ارب روپے ہونے کے باوجود اسپتال کی موجودہ حالت سوالیہ نشان کیوں ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ اگر کسی نجی اسپتال کو پمز کے بجٹ کا دسواں حصہ بھی ملے تو وہ ایک شاندار ادارہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر کب تک سرکاری وسائل کے ضیاع اور مبینہ لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہے گا؟

یہ بھی پڑھیں : پمز ہسپتال سانحہ: ایمل ولی خان کا اظہارِ افسوس، شفاف تحقیقات کا مطالبہ

مزمل اسلم نے پمز واقعے کے دوران ریسکیو 1122 کی موجودگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ واقعے کے موقع پر ریسکیو 1122 کہاں تھی۔ انہوں نے مزید سوال کیا کہ پولیس متاثرہ والدین کو میڈیا سے بات کرنے سے کیوں روک رہی ہے۔

انہوں نے انتظامی یونٹس اور وفاقی حدود سے متعلق بحث پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کہیں یہ طاقت اور وسائل کی جنگ تو نہیں۔

مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ عوام کے حقوق کو بہانہ نہیں بنانا چاہیے، بلکہ محفوظ اور معیاری سہولیات کو اصل ترجیح بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ 12 ربیع الاول کے بابرکت دن پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے پر ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ آخر اپنی اس نااہلی کا جواب اللہ تعالیٰ کو کیا دیں گے؟

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ ان کے بقول جو لوگ جعلی فارم 47 کے سہارے اقتدار میں آئے، ان سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنہیں عوام کے جذبات کی پروا نہیں، وہ عوام کے مسائل کیا سمجھیں گے۔

Scroll to Top