آیت نور کیس: ہری پور میں خواتین کا پُرامن احتجاج، بڑا مطالبہ سامنے رکھ دیا

حمد اللہ
ہری پور: آیت نور کیس میں انصاف اور بچوں کے تحفظ کے مطالبے کے لیے خواتین شہریوں نے ڈسٹرکٹ کورٹس کے باہر پُرامن احتجاج کیا۔

ضلع بھر سے غیرسیاسی اور غیرتنظیمی خواتین نے احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے آیت نور کیس کے ملزمان کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔

احتجاج میں خواتین کے ساتھ معصوم بچے بھی شریک ہوئے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ آیت نور کے لیے انصاف کی آواز بلند کرنے اور بچوں کے تحفظ کے لیے پُرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

احتجاج کے دوران ارم فاطمہ ترک نے کہا کہ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں، تاہم ہری پور میں ایسا واقعہ پہلی بار سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو تہائی اکثریت کے باوجود عوام کو اس کا فائدہ کب پہنچے گا؟

ارم فاطمہ ترک نے کہا کہ اپنے مفادات کے لیے ترامیم کی جاتی ہیں اور اپنی مرضی کے قوانین منظور کیے جاتے ہیں، تو پھر درندوں کو سزا دینے کے لیے قانون میں ترامیم کیوں نہیں کی جاتیں؟

سلمہ تنولی نے کہا کہ وہ معصوم بچوں کے تحفظ اور آیت نور کے لیے انصاف کی خاطر پُرامن احتجاج کررہی ہیں۔ ان کے مطابق وکلاء برادری نے کیس لینے سے انکار کردیا ہے جو خوش آئند بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آیت نور کیس کی تفتیش آخری حد تک باریک بینی سے جاری ہے، ڈی پی او ہری پور

احتجاج میں شریک وکیل مسز جعفری نے کہا کہ وکلاء برادری احتجاج میں بھرپور طور پر شریک ہے اور آیت نور کو انصاف دلانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں موجود خامیوں اور گنجائشوں کے باعث ملزمان باعزت بری ہوجاتے ہیں۔

وکیل مسز جعفری کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے آج بھی 1898 کا انگریز دور کا قانون نافذ ہے۔ ان کے مطابق اگر قانونی شکنجہ مضبوط نہیں کیا گیا تو انصاف کی فراہمی ممکن نہیں ہوگی اور آیت نور، زینب اور منّت نور جیسے واقعات ہوتے رہیں گے۔

انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ اس کیس پر آواز بلند کرتے رہیں، بصورت دیگر خدشہ ہے کہ یہ مقدمہ بھی فائلوں میں دب کر رہ جائے گا۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ آیت نور کیس کے ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے اور بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

Scroll to Top