پاکستان میں بیوروکریسی کے بے لگام اختیارات: سینئر صحافی محمد مالک نے حکومتی ترجیحات پر سوالات اُٹھا دیئے

سینئر صحافی عبدالمالک نے ملک میں بیوروکریسی کے غیر محدود اختیارات اور مبینہ مالی مفادات کے تحفظ پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے حکومتی ترجیحات پر سوالات اٹھا دیئے۔

عبدالمالک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرلکھاکہ کہ ایک طرف قوم نااہل بیوروکریٹس کی غفلت سے 14 معصوم بچوں کی ہلاکت پر سوگوار ہے جبکہ دوسری جانب وزیراعظم آفس کی تمام تر ترجیح اپنے سابق پی ایس او اور موجودہ سیکرٹری صنعت و پیداوار کیپٹن (ر) سعید انجم کو بچانا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ(ای ڈی بی )کے سی ای او کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ہنگامی اجلاس بلایا گیاکیونکہ وہ سالانہ کروڑوں ڈالرز کے ذاتی مفادات کے تحت تیار کی جانے والی ناقص آٹو پالیسی کے لیے سیکرٹری کے دباؤ کو قبول کرنے سے انکاری تھے۔

عبدالمالک نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم یا تو اپنے دفتر کے ان دو اعلیٰ بیوروکریٹس کے سامنے بے بس ہیں جو اس ناانصافی کو تقویت دے رہے ہیں، یا پھر انہیں اس صورتحال کی کوئی پرواہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب

انہوں نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے ہائبرڈ سسٹم والے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں ہائبرڈ نظام موجود ہے تو اب فیلڈ مارشل کو خود آگے آنا چاہیےتاکہ بیوروکریسی میں موجود بااثر شخصیات کے فیصلوں سے ہونے والے نقصان کا تدارک ہو سکے۔

Scroll to Top