پیپلز پارٹی نئے صوبوں کے خلاف کیوں؟ لنڈی کوتل کے شہریوں نے وجہ بتا دی

ہارون شنواری

لنڈی کوتل: پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک بار پھر زیرِ بحث ہے، جہاں مختلف سیاسی جماعتیں وقتاً فوقتاً نئے صوبوں کی حمایت یا مخالفت کرتی رہی ہیں۔ تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے نئے صوبوں کی مخالفت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آخر پیپلز پارٹی نئے صوبوں کے قیام کے خلاف کیوں ہے؟

اس حوالے سے ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں پختون ڈیجیٹل کے نمائندے نے شہریوں سے گفتگو کی، جنہوں نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر مختلف آرا کا اظہار کیا۔

بعض شہریوں کا کہنا تھا کہ انتظامی معاملات جتنے نچلی سطح تک منتقل ہوں گے، عوام کو اتنا ہی بہتر ریلیف ملے گا اور حکومتی نظام بھی مؤثر انداز میں چل سکے گا۔ تاہم ان کے مطابق سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کے معاملے پر اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دیتی ہیں۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی پنجاب کی تقسیم کی حمایت کرتی ہے، تاہم سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتی ہے، جبکہ اے این پی بھی خیبرپختونخوا کی تقسیم کے بجائے پنجاب میں نئے صوبوں کی بات کرتی ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بھی نئے صوبوں کے معاملے پر مختلف مؤقف سامنے آتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں پر بحث کیلئے تحریک التوا منظور کرلی

ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کی مخالفت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے بعض علاقوں میں ان کی سیاسی اکثریت اور انتخابی اثر و رسوخ متاثر ہوسکتا ہے۔

شہریوں نے پیپلز پارٹی کے حوالے سے رائے دیتے ہوئے کہا کہ اگر سندھ کو تقسیم کرکے مزید صوبے بنائے جاتے ہیں تو پیپلز پارٹی کا موجودہ سیاسی مینڈیٹ تقسیم ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں ایک صوبے میں اس کی اکثریت برقرار رہ سکتی ہے جبکہ دوسرے صوبے میں دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے میدان کھل سکتا ہے۔

دوسری جانب کچھ شہریوں نے نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے موجودہ معاشی صورتحال کو اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پہلے ہی مالی بحران کا شکار ہے اور بعض صوبوں کو اپنے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں بھی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

ان کے مطابق نئے صوبے بننے کی صورت میں نئے سیکریٹریٹس، گورنر ہاؤسز اور دیگر سرکاری اداروں کے قیام کے ساتھ ہزاروں نئی سرکاری اسامیاں بھی پیدا ہوں گی، جس سے حکومتی اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ موجودہ مالی حالات میں نئے صوبے اپنے انتظامی اور مالی معاملات کس طرح چلائیں گے۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ موجودہ وقت میں پاکستان کو نئے صوبوں سے زیادہ گڈ گورننس، کرپشن کے خاتمے، بہتر انتظامی نظام اور عوام کو فوری ریلیف کی ضرورت ہے، اس لیے نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ موجودہ معاشی حالات کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : نئے صوبے بنانے کا فیصلہ کون کرے گا؟ گورنر خیبر پختونخوا کا اہم بیان سامنے آ گیا

تاہم کچھ شہریوں نے نئے صوبوں کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر انتظامی یونٹس میں اضافہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق نئے صوبوں سے اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے اور مختلف علاقوں کو اپنے وسائل اور حقوق بہتر انداز میں حاصل ہوسکیں گے۔

ایک شہری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے نئے صوبوں کی مخالفت کی بڑی وجہ سندھ میں اس کے سیاسی مفادات ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق سندھ میں مختلف سیاسی جماعتوں کی موجودگی کے باعث صوبے کی تقسیم سے پیپلز پارٹی کا موجودہ سیاسی اثر و رسوخ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

لنڈی کوتل کے شہریوں کی آرا سے واضح ہوتا ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ صرف انتظامی ضرورت تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ سیاسی، معاشی اور انتظامی مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں، جبکہ حتمی فیصلے میں عوامی سہولت اور ملک کی معاشی صورتحال کو بنیادی اہمیت دینے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top