اسلام آباد: دیامر بھاشا ڈیم کے پاور جنریشن منصوبے کی منسوخی سے متعلق سامنے آنے والی خبر کو بے بنیاد اور ایجنڈا پر مبنی سنسنی خیز پروپیگنڈا قرار دے دیا گیا ہے۔
متعلقہ اداروں کے مطابق منصوبے کا 4,500 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والا حصہ بدستور قومی منصوبہ بندی میں شامل ہے اور اس سے پیدا ہونے والی بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے کا منصوبہ برقرار ہے۔
امریکا میں قائم ایک ویب سائٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ رواں سال کے آغاز میں اکنامک افیئرز ڈویژن (EAD) کی ایک مبینہ اندرونی دستاویز کے ذریعے یہ انکشاف ہوا ہے کہ حکومت پاکستان نےدیامر بھاشا ڈیم کے پاور جنریشن حصے کو منسوخ کردیا ہے۔
اس دعوے کے بعد سینئر صحافی اور تجزیہ کار طلعت حسین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس، سابق ٹوئٹر، پر ایک پوسٹ میں اس خبر کو Exclusive Fake قرار دیتے ہوئے متعلقہ محکموں سے اس دعوے کی حقیقت جاننے کی کوشش کی۔
طلعت حسین کے مطابق متعلقہ اداروں نے واضح کیا کہ نہ کوئی مبینہ لیک شدہ دستاویز موجود ہے، نہ منصوبے کی منسوخی کا کوئی حکم جاری ہوا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ حکام نے اس دعوے کو ایک روایتی جعلی خبر قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ اکنامک افیئرز ڈویژن کا بنیادی مینڈیٹ بیرونی مالی معاونت اور منصوبوں کے لیے غیر ملکی فنانسنگ حاصل کرنا ہے، جبکہ یہ ادارہ پاور منصوبوں کی منسوخی سے متعلق فیصلے کرنے کا مجاز نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : عمران خان کے بیٹے جھوٹ بول رہے ہیں، جیل میں ہر سہولت موجود ہے، اسکائی اسپورٹس کے انٹرویو پر سیاسی رہنما برہم
دستیاب معلومات کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم کا 4,500 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والا منصوبہ بدستور ایک committed project ہے اور اسے 2025 سے 2035 کے جنریشن پلان میں شامل کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ پاور ڈویژن کی جانب سے بھی دیامربھاشا ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے کا باضابطہ عزم موجود ہے، جس کے لیے منصوبے کے پاور جنریشن سے متعلق بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر ضروری ہے۔
متعلقہ حلقوں کے مطابق ان حقائق کی موجودگی میں دیامر بھاشا ڈیم کے پاور جنریشن حصے کی منسوخی کا دعویٰ درست نہیں۔ مبینہ لیک دستاویز، منسوخی کے حکم یا کسی سرکاری فیصلے کی عدم موجودگی اس خبر کی صحت پر مزید سوالات اٹھاتی ہے۔
غیر ملکی بنیادوں پر سرگرم پی ٹی آئی اور بھارتی سوشل میڈیا ہینڈلز کی جانب سے جعلی خبروں کی تیاری اور تشہیر کے تناظر میں بھی پیش کیا اور سوال اٹھایا کہ اس نوعیت کی معلومات کس طرح تیار کرکے آگے پھیلائی جاتی ہیں۔
یوں دیامر بھاشا ڈیم کے پاور جنریشن منصوبے کی منسوخی سے متعلق خبر کے برعکس، فراہم کردہ معلومات کے مطابق منصوبے کا 4,500 میگاواٹ کا پاور جزو بدستور حکومتی جنریشن پلان کا حصہ ہے اور اس کی بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے کا منصوبہ بھی برقرار ہے۔





