پاکستانی D-248 ڈرون کی مبینہ 3 ہزار کلومیٹر رینج، امریکی صحافی ماریو نوفل کا بڑا دعویٰ

اسلام آباد: پاکستان کی جانب سے 3 ہزار کلومیٹر تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ایک نئے طویل فاصلے کے ڈرون کی تیاری اس وقت زیر بحث ہے، جس نے ملک کی بڑھتی ہوئی ڈرون اور بغیر پائلٹ جنگی صلاحیتوں کی جانب توجہ مبذول کرادی ہے۔

سینئر تجزیہ کار منصور علی خان نے اپنے پوڈکاسٹ میں امریکی صحافی Mario Nawfal کی ایک ویڈیو کا حوالہ دیتے کہا ہے کہ امریکی صحافی نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان نے D-248 ماڈل کا نیا ڈرون تیار کر لیا ہے، جو 3 ہزار کلومیٹر تک سفر کی صلاحیت اور 30 سے 50 کلوگرام بارودی مواد اٹھانے کی قابلیت رکھتا ہے۔

منصور علی خان کہتے ہیں کہ امریکی صحافی کہتے ہیں کہ ایرانی ‘شاہد’ ڈرون کی طرز پر ہدف کو تباہ کرنے والا یہ ڈرون پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ‘معاہدہِ مکہ’ کی تکمیل کے موقع پر ملکی دفاعی صلاحیتوں میں ایک زبردست پیشرفت ہے۔

منصور علی خان کے پوڈکاسٹ میں اس دعوے کو پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں ممکنہ اہم پیش رفت کے تناظر میں دیکھا گیا ہے ، گفتگو میں خاص طور پر اس پہلو پر توجہ رہی کہ اگر D-248 سے متعلق دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو طویل فاصلے تک جانے والے ڈرون پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں ایک نمایاں اضافہ ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : روس کے یوکرین پر حملے جاری، تازہ ڈرون حملے میں 15 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس میں پاکستان کے ساتھ ترکیہ اور سعودی عرب کے تعلقات اور ’معاہدۂ مکہ‘ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، اسی تناظر میں اس مبینہ ڈرون کو پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں پیش رفت کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔

ایرانی ’شاہد‘ ڈرون سے مشابہت کا دعویٰ

ماریو نوفل نے مبینہ D-248 کو ایران کے ’شاہد‘ سیریز کے یک طرفہ حملہ آور ڈرونز سے مشابہ قرار دیا ہے، اس نوعیت کے نظام کو عام طور پر لوئٹرنگ میونیشنز یا یک طرفہ حملہ آور ڈرونز کہا جاتا ہے ، یہ ایسے نظام ہوتے ہیں جو کسی مقررہ ہدف کی جانب پرواز کرتے ہیں اور ہدف سے ٹکرانے کے بعد پھٹ جاتے ہیں۔

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا تعاون

یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور تزویراتی تعاون میں اضافہ ہورہا ہے ، اس آن لائن پوسٹ میں ڈرون کی تیاری کو تینوں ممالک کے درمیان ’معاہدۂ مکہ‘ کی تکمیل سے بھی جوڑا گیا ہے تاہم دستیاب مواد سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ D-248 کی تیاری کا براہِ راست تعلق کسی تین ملکی دفاعی معاہدے سے ہے۔

ڈرون ٹیکنالوجی کی بڑھتی اہمیت

جدید جنگ میں ڈرون ٹیکنالوجی کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے اور پاکستان بھی اپنی بغیر پائلٹ فضائی صلاحیتوں کو وسعت دیتا رہا ہے۔

گذشتہ چند برسوں میں دنیا بھر میں جنگی تکنیک میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے، خطے میں بڑھتے ہوئے روایتی اور غیر روایتی دفاعی عدم توازن کے پیش نظر پاکستان کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ اپنے خود ساختہ دفاعی پروگرام کو جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کرے۔

Scroll to Top