خیبرپختونخوا میں خصوصی افراد کیلئے مالی امداد کا آغاز، 9298 مستحقین منتخب

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات اور بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے فلاحی ریاست، مستحق طبقات کی معاونت اور باعزت خودکفالت کے وژن کے تحت صوبے کے مستحق خصوصی افراد کو مالی و سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومت خیبرپختونخوا کے فلیگ شپ پروگرام ’’احساس اُمید‘‘ کے تحت مالی امداد کی فراہمی کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے۔

مالی امداد کی فراہمی کا افتتاح وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان نے جمعہ کے روز حیات آباد اسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس پشاور میں منعقدہ تقریب میں کیا۔

تقریب میں سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین، پارلیمانی سیکرٹری اعظم خان، ایڈیشنل سیکرٹری زکوٰۃ و عشر حبیب اللہ، چیئرمین زکوٰۃ و عشر امتیاز خان اور دیگر حکام بھی شریک ہوئے۔

احساس اُمید پروگرام کے تحت خیبرپختونخوا بھر میں 10 ہزار مستحق خصوصی افراد کو ماہانہ 5 ہزار روپے مالی امداد فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مستحقین کو رقم کی وصولی کے لیے احساس اُمید کارڈ بھی جاری کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : سیاسی مظاہروں میں سرکاری ملازمین کی شرکت، اہم فیصلہ سامنے آگیا

مشیر وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان کے مطابق مستحق خصوصی افراد کی شناخت اور مالی معاونت کا پورا عمل شفاف، میرٹ پر مبنی اور جدید ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا گیا ہے۔

محکمہ سماجی بہبود نے ای-ڈس ایبلٹی سسٹم کے ذریعے 52 ہزار خصوصی افراد کا ڈیٹا حاصل کیا، جس کے بعد جامع سماجی و معاشی اعشاریوں کی بنیاد پر آئی ٹی سسٹم کے ذریعے مستحق افراد کا پاورٹی سکور مرتب کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے بھر میں 4400 مقامی زکوٰۃ کمیٹیوں کے ذریعے خصوصی افراد کا سماجی و معاشی جائزہ مکمل کیا گیا، جبکہ فراہم کردہ معلومات کی متعلقہ ڈسٹرکٹ زکوٰۃ کمیٹیوں نے تصدیق بھی کی۔

شفاف طریقہ کار کے تحت مجموعی طور پر 9298 خصوصی افراد کو مالی امداد کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ فنڈز کی تقسیم کے لیے ایزی پیسہ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، جبکہ مستحقین بائیومیٹرک تصدیق کے بعد اپنی رقم وصول کرسکیں گے۔

ملک لیاقت علی خان نے بتایا کہ پشاور، چارسدہ اور خیبر سے تعلق رکھنے والے 20 خصوصی افراد کو جنوری تا جون 2026 کے عرصے کے فی کس 30 ہزار روپے ادا کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر مستحقین کو رقوم آن لائن منتقل کی جائیں گی۔

مشیر وزیراعلیٰ نے کہا کہ احساس اُمید پروگرام میں ہر قسم کی مداخلت کا خاتمہ کردیا گیا ہے اور مستحقین تک ان کی مکمل رقم شفاف طریقے سے پہنچانے کے لیے مؤثر نظام تشکیل دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخواکے بالائی علاقوں میں گلیشیئر پگھلنے کے ممکنہ خطرات،پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

ان کے مطابق ماضی میں بعض مستحق افراد کو مالی امداد وصول کرنے کے لیے دوسروں پر انحصار کرنا پڑتا تھا، تاہم اب احساس اُمید کارڈ کے ذریعے مستحقین خود اے ٹی ایم سے اپنی مکمل رقم نکال سکیں گے۔

ملک لیاقت علی خان کا کہنا تھا کہ پروگرام کا مقصد ایسا شفاف نظام قائم کرنا ہے جس میں کسی بھی مستحق کو یہ خدشہ نہ ہو کہ اس کی رقم میں سے ایک روپیہ بھی ضائع یا کسی غیر متعلقہ شخص تک منتقل ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ سماجی بہبود خصوصی افراد، یتیموں، بیواؤں اور دیگر مستحق طبقات کی خدمت کے لیے قائم ہے، اس لیے محکمہ کے افسران و اہلکاروں سمیت ہر فرد کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مستحق کا حق کسی غیر متعلقہ شخص تک نہ پہنچے۔

مشیر وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت خصوصی افراد کو محض مالی امداد کا محتاج بنانے کے بجائے انہیں باعزت روزگار اور خودکفالت کے مواقع فراہم کرنا چاہتی ہے۔ مالی معاونت کے ساتھ مستحق افراد کو جدید ڈیجیٹل اسکلز، فنی تربیت اور دیگر ہنر سکھانے کی منصوبہ بندی بھی کی جارہی ہے تاکہ وہ گھر بیٹھے اپنی صلاحیتوں کو آمدن کا ذریعہ بنا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ مستحقین کو صرف وہیل چیئرز اور سلائی مشینیں فراہم کرنے تک محدود رکھنے کے بجائے جدید وژن کے تحت ہنرمندی، روزگار اور خودکفالت کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔

Scroll to Top