آزاد کشمیر : آزاد کشمیر پولیس کے مطابق ریاست مخالف اور پُرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا ایک اہم ثبوت سامنے آیا ہے۔ پولیس نے آزاد کشمیر کے ضلع سدھنوتی کے علاقے منگ کے رہائشی عبداللہ شانی کو گرفتار کیا ہے، جس کے ابتدائی تفتیشی بیان میں دھرنے میں موجود مسلح عناصر اور ریاستی اداروں کے خلاف پُرتشدد کارروائیوں سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار شخص نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ دھرنے میں مسلح افراد موجود ہیں۔ اس کے مطابق دھرنے میں موجود بعض عناصر نوجوانوں کو اشتعال دلا کر مسلح ہونے پر اکساتے ہیں، جبکہ منصوبہ بندی کے تحت قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
دورانِ تفتیش عبداللہ شانی کے موبائل فون سے برآمد ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر کو بھی اہم شواہد قرار دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ان مواد میں مسلح افراد کے ہمراہ موجودگی دکھائی دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں، 11 خارجی جہنم واصل
شواہد کا مزید فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ گرفتار ملزم کے دیگر روابط اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار شخص کے بیان اور موبائل فون سے ملنے والے شواہد نے اس بات کی مزید تائید کی ہے کہ فسادی جتھے کے بعض عناصر عوامی حقوق کی جدوجہد کا لبادہ اوڑھ کر ریاستی اداروں پر حملہ آور ہونے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پریس ریلیز کے مطابق ان عناصر کی جانب سے آتشیں اسلحہ استعمال کرنے کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے متعدد اہلکار شہید اور زخمی ہوئے، جبکہ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : آپریشن ردالفتنہ 3: زیارت کراس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج و فتنہ الہندوستان کا حملہ ناکام
پولیس نے الزام عائد کیا کہ اس طرزِ عمل کا مقصد ریاستی اداروں کو بدنام کرنا، عوام کو ریاست کے خلاف اکسانا اور امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا ہے۔
پولیس نے واضح کیا ہے کہ عوام کے جائز حقوق اور پُرامن احتجاج کا احترام کیا جائے گا، تاہم ریاستی اداروں پر حملہ، شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنا اور قانون کی عملداری کو چیلنج کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔
پولیس کے مطابق ریاستی قانون کی عملداری یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا، جبکہ ریاست مخالف اور پُرتشدد سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی۔





